بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 132
132 دیئے۔تجلی اعلیٰ کا دن کتاب کے صفحہ ۲۶۱ پر مولانا صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ایک اور تجلی اعلیٰ کا دن ہے کہ خدا تعالی کی بڑی حکمت نے اس دن کے ظاہر کرنے کا تقاضا کیا ہے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ اپنی خالقیت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر وہ سب کو ہلاک کرے گا تاکہ وہ اپنی قہاریت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر ایک دن سب کو کامل زندگی بخش کر ایک میدان میں جمع کرے گا تا کہ وہ اپنی قادریت کے ساتھ پہچانا جائے۔" یہ لطیف عبارت بجنسه حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی معرکہ آرا تألیف اسلامی اصول کی فلاسفی" کے صفحہ ۹۴ پر موجود ہے۔مندرجہ بالا تفصیلات منظر عام پر لانے کے بعد ہم آخر میں جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے ملفوظات میں سے ایک نہایت دلچسپ اور پر لطف واقعہ ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔لکھا ہے۔ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ان قادیانیوں کی کوئی کتاب وغیرہ چرالے جائز ہے یا نہیں اس لئے کہ مرتد ہیں۔جواب میں فرمایا کہ مسئلہ تو کتاب میں دیکھا جائے مجھ کو اس وقت یاد نہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی چوری کرنے کی میری تو نیت نہیں۔" " الافاضات الیومیہ " حصہ اول صفحه (۱۳) اس حیرت انگیز انکشاف کارد عمل یوں تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلا ہوا پورا لٹریچر ہی شهنشاه نبوت می کی ابدی تاثیرات کا آئینہ دار ہے مگر حضور کا لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی" تو فیضان نبوی کا زندہ اور تابندہ اعجازی نشان بھی ہے جس کی سطر سطر پر حضور