بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 131
131 قوت اور جس کی ضرورت ہے۔اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑہا اولیاء صلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بے شمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں گو اس کی اصلیت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔کان اگر نہ دیکھ سکیں تو ان کا کیا قصور ؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کسی جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلا دے گی۔جیالوجسٹ (عالم علم طبقات الارض) بتلا دیتے ہیں کہ یہاں فلاں دھات ہے اور وہاں فلاں کان ہے۔۔۔۔۔۔پس یہ بات ایک سچی بات ہے کہ ارواح کا تعلق قبور سے ضرور ہوتا ہے۔" ا حکم " جلد نمبر ۳ صفحه ۲ - ۳ پرچه ۲۳ جنوری ۱۸۹۹ء) یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ حضرت اقدس کو چونکہ جناب الہی نے آنحضرت میم کی متابعت کی برکت سے کشفی آنکھیں بخشیں اور آسمانی نور سے بہرہ مند فرمایا تھا۔اس لئے آپ نے ارواح کے تعلق قبور کا ذکر کرتے ہوئے ببانگ دہل اعلان فرمایا کہ ”ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں مگر کتاب احکام اسلام کے مصنف کو " ایسا کوئی دعوئی نہیں تھا نہ ہو سکتا تھا اس لئے انہوں نے اپنی کتاب میں حضرت اقدس کے ملفوظات کا طویل اقتباس نقل کرتے ہوئے اس سے متعار الفاظ بالکل قلم زن فرما :