بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 130 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 130

130 کر سکتے۔اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یاد رکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمہ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے۔پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ روح کے متعلق علوم چشمہ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تو دہ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یا اہل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے۔پس جو آدمی ان قومی سے کام لے جن سے کشف قبور ہو سکتا ہے وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔ہم ایک بات مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور ایک مصری کی ڈلی رکھی ہو۔اب عقل محض ان پر کیا فتویٰ دے سکے گی۔ہاں اگر ان کو چکھیں گے تو جدا گانہ مزوں سے معلوم ہو جاوے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری ہے لیکن اگر حس انسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا؟ پس ہمارا کام صرف دلائل سے سمجھا دیتا ہے۔آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آسکتا اور ایک مسلوب القوۃ کے طریق استدلال سے فائدہ نہ شخص اٹھانے سے ان کا ابطال نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر اگر کوئی آنکھ نہیں رکھتا تو وہ اس تعلق ارواح کو کیونکر دیکھ سکتا ہے ؟ پس محض اس لئے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اس کا انکار جائز نہیں ہے۔ایسی باتوں کی پتہ نری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لگتا۔اللہ تعالی نے اس لئے انسان کو مختلف قوی دئے ہیں۔اگر ایک ہی سب کام دیتا تو پھر اس قدر قوی کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ بعض کا تعلق آنکھ سے اور بعض کا کان سے ، بعض زبان سے متعلق ہیں اور بعض ناک سے۔مختلف قسم کی حسیں انسان رکھتا ہے۔قبور کے ساتھ تعلق ارواح دیکھنے کے لئے کشفی