بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 129 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 129

129 اپنی عقل خام سے چاہتا ہے۔حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے۔اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکے گا۔امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔اسی طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔انسان دھو کہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔میں اس اصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روز مرہ ہم ان باتوں کی سچائی دیکھتے ہیں۔پس جب روح جسم سے مفارقت کرتی ہے یا تعلق پکڑتی ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہو سکتا۔اگر ایسا ہو تا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔اسی طرح قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے۔یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس کی آنکھ کا کام نہیں۔یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر محض عقل سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتلائے کہ روح کا وجو د بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہا فلاسفر دہریہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام ؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کو دیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طور پر نہیں بتلا سکتی۔چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔فلاسفر تو روخ کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق و غیرہ کی چشمہ نبوت سے ملی ہیں اور نرے عقل والے تو دعوی ہی نہیں