بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 12
12 (ترجمه اشعار) میں تیار ہوں کہ جان و دل تجھ پر قربان کردوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپرد کر دینا ہی اصل دوستی ہے۔مجھے عشق و وفا کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔تو نے ہی خود محبت کی یہ دولت میرے دامن میں ڈال دی۔فصل بہار اور پھولوں کا موسم میرے لئے بیکار ہیں کیونکہ میں تو ہر وقت تیرے چہرے کے خیال کی وجہ سے ایک چمن میں ہوں۔اگر تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سرا تارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعوی کرے گا وہ میں ہوں گا۔(اے محبت!) ایک تجلی سے تو ذرہ کو سورج بنا دیتی ہے اور بہت دفعہ ہماری طرح کی خاک کو تو نے چمکتا ہوا چاند بنا دیا۔دنیا کے عظمندوں کو تو دیوانہ بنا دیتی ہے اور بہت سے عظمندی کے گھروں کو تو نے ویران کر دیا۔میں بھی جب تک دیوانہ نہ ہو گیا میرے ہوش ٹھکانے نہ ہوئے۔اے جنون عشق ! میں تجھ پر قربان۔تو نے کتنا احسان کیا۔نعت میرے دل میں اس سردار کی تعریف جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔وہ جو بخشش اور سخاوت میں ابر بہار ہے اور فیض و عطا میں ایک سورج ہے۔اس کے منہ سے حکمت کا چشمہ اور اس کے دل میں معارف سے پر ایک کو ثر ہے۔اس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی۔اس کا نور ہر ملک پر چمکا۔