بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 128 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 128

128 ނ ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی معلوم ہوتی ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے ہم یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالی نے مختلف طریقے رکھے ہیں۔بعض خواص آنکھ کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتہ صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حس مشترک سے ان کا سراغ ملتا ہے اور کتنی ہی سچائیاں ہیں کہ وہ مرکز قومی یعنی دل سے معلوم ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالٰی نے صداقت کے معلوم کرنے کے لئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتا سکیں گے۔ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو وہ اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہہ سکے گی۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے مختلف قومی اور طاقتیں ہیں۔اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں۔یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔آج کل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا بلکہ جداگانہ خدمتیں مقرر ہیں۔سقہ پانی پلاتا ہے۔دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔باورچی کھانا پکا تا ہے۔غرضیکہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔پس اس اصل کو یا د رکھو کہ مختلف قوتوں کے مختلف کام ہیں۔انسان بڑے قومی لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خد متیں اس کی تعمیل کے لئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ