بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 127
127 بیمار کی تقدیر نیک ہو ، اسباب تقدیر علاج پورے طور پر میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ ہو ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔تب دوا نشانہ کی طرح جاکر اثر کرتی ہے۔یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اسی جگہ جمع ہوتے ہیں۔جہاں ارادہ الہی اس کے قبول کرنے کا ہے۔" "بركات الدعا" صفحہ ۱۱۔(۱۲) جناب حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے ” برکات الدعا" کے مندرجہ بالا دونوں اقتباسات اگر چه نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی مقبول " عام کتاب کے صفحہ ۸۴-۸۵ پر "حقیقت دعاء وقضا" کے عنوان سے قلم بند فرما دئے ہیں۔مگر جس جس فقرے میں سرسید کا نام تھا اس کو "کمال فطانت و ذہانت" سے دوسرے الفاظ میں بدل ڈالا ہے۔و قبور سے تعلق ارواح مندرجہ بالا عنوان سے احکام اسلام" کے صفحہ ۲۶۲ سے صفحہ ۲۶۵ تک ایک نہایت لطیف مضمون بیان ہوا ہے جو اول سے آخر تک براہ راست حضرت اقدس کے ان ملفوظات سے ماخوذ ہے جو آج سے قریباً اسی سال قبل اخبار الحکم میں شائع ہوئے تھے حضور نے فرمایا :۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہ میل و عمل میں آیا ہے۔وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کنہ کیا ہے ؟ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔البتہ یہ ہمارا فرض ہو سکتا ہے کہ ہم یہ ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی محال عقلی لازم نہیں آتا اور اس کے لئے ہم اللہ تعالی کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔در حقیقت یہ امر اس قسم کا