بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 126 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 126

126 با وجو د ایمان بالتقدیر کے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ دوائیں بھی اثر سے خالی نہیں تو پھر کیوں خدا تعالٰی کے یکساں اور متشابہ قانون میں فتنہ اور تفریق ڈالتے ہیں؟ کیا سید صاحب کا یہ مذہب ہے کہ خدا تعالٰی اس بات پر تو قادر تھا کہ تربد اور سقمونیا اور سناء اور حب الملوک میں تو ایسا قوی اثر رکھ دے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں یا مثلا سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کر دے۔لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مردہ کی طرح رہنے دے جن میں ایک ذرہ بھی اثر ہوا۔کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالٰی نے دعاؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرغی نہ ہو ؟ نہیں نہیں ! ہرگز نہیں !! بلکہ خود سید صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القومی دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پاکر اس دوا پر عام حکم لگا دے کہ اس میں کچھ بھی تاثیر نہیں۔" "بركات الدعا" صفحہ ۷ - ۸) دوم ” میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے یا ان کا خطا جانا غیر ممکن ہے ؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی ان کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے ؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں مثلاً اگر ایک