بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 125
125 جائے اور کاٹ دیا جائے اور پھینک دیا جائے۔یہ سب کارروائی قانون قدرت کے موافق ہے۔عورت کا مرد سے ایسا تعلق نہیں جیسے اپنے ہاتھ اور اپنے پیر کا لیکن تاہم اگر کسی کا ہاتھ یا پیر کسی ایسی آفت میں مبتلا ہو جائے کہ اطباء اور ڈاکٹروں کی رائے اسی پر اتفاق کرے کہ زندگی اس کی کاٹ دینے میں ہے تو بھلا تم میں سے کون ہے کہ ایک جان بچانے کے لئے کاٹ دینے پر راضی نہ ہو پس ایسا ہی اگر تیری منکوحہ اپنی بد چلنی اور کسی مہاں پاپ سے تیرے پر و بال لائے تو وہ ایسا عضو ہے کہ بگڑ گیا اور سٹر گیا اور اب وہ تیرا عضو نہیں ہے اس کو جلد کاٹ دے اور گھر سے باہر پھینک دے۔ایسا نہ ہو کہ اس کی زہر تیرے سارے بدن میں پہنچ جائے اور تجھے ہلاک کرے پھر اگر اس کائے ہوئے اور زہریلے جسم کو کوئی پرند کھالے تو تجھے اس سے کیا کام کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جب کہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا۔" آریہ دھرم صفحه ۳۲ - ۳۳ طبع اول ۱۸۹۵ء) ) -۶۔سرسید احمد خان بانی علی گڑھ کالج دعاؤں کی قبولیت اور قبولیت دعا کا فلسفہ تاثیر کے قائل نہیں تھے۔جیسا کہ ان کی تفسیروں اور لیکچروں اور مضامین سے ماہر ہے۔حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ عہد حاضر کی وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے عقل و نقل اور اپنے روحانی مشاہدات کی روشنی میں " بركات الدعا" جیسی لاجواب کتاب سپرد قلم فرمائی۔پوری کتاب مطالعہ کرنے کے لائق ہے بطور نمونہ اس کے دو اقتباس ملاحظہ ہوں۔اول ”اگر چہ دنیا کی کوئی خیرو شر مقدر سے خالی نہیں تاہم قدرت نے اس کے حصول کے لئے ایسے اسباب مقرر رکھے ہیں جن کے صحیح اور بچے اثر میں کسی عقلمند کو کلام نہیں مثلاً اگر چہ مقدر پر لحاظ کر کے دوا کا کرنا نہ کرنا در حقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دعا یا ترک دعا۔مگر کیا سید صاحب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے اور حکیم حقیقی نے دعاؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا۔پھر اگر سید صاحب 4