بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 124 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 124

1 124 عورت کی طرف سے عفت اور پاک دامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خود بخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے۔جیسا کہ وہ خود بخود نکاح کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو تو ڑا سکتی ہے۔جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کرا سکتی ہے اور یہ کمی اختیار اس کی فطرتی شتاب کاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے۔لیکن مرد جیسا کہ اپنے اختیار سے معاہدہ نکاح کا باندھ سکتا ہے ایسا ہی عورت کی طرف سے شرائط ٹوٹنے کے وقت طلاق دینے میں بھی خود مختار ہے۔سو یہ قانون فطرتی قانون سے ایسی مناسبت اور مطابقت رکھتا ہے گویا کہ اس کی عکسی تصویر ہے۔کیونکہ فطرتی قانون نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ ہر ایک معاہدہ شرائط قرار داده کے فوت ہونے سے قابل فسخ ہو جاتا ہے اور اگر فریق ثانی فسخ سے مانع ہو تو وہ اس فریق پر ظلم کر رہا ہے جو فقدان شرائط کی وجہ سے فسخ عہد کا حق رکھتا ہے۔جب ہم سوچیں کہ نکاح کیا چیز ہے تو بجز اس کے اور کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ ایک پاک معاہدہ کی شرائط کے نیچے دو انسانوں کی زندگی بسر کرتا ہے اور جو شخص شرائط شکنی کا مرتکب ہو ، وہ عدالت کی رو سے معاہدہ کے حقوق سے محروم رہنے کے لائق ہو جاتا ہے اور اسی محرومی کا نام دوسرے لفظوں میں طلاق ہے۔لہذا طلاق ایک پوری پوری جدائی ہے جس سے مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بد اثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک عورت کسی کی منکوحہ ہو کر نکاح کے معاہدہ کو کسی اپنی بدچلنی سے تو ڑ دے تو وہ اس عضو کی طرح ہے جو گندہ ہو گیا اور سڑ گیا یا اس دانت کی طرح ہے جس کو کیڑے نے کھا لیا اور وہ اپنے شدید درد سے ہر وقت تمام بدن کو ستاتا اور دکھ دیتا ہے تو اب حقیقت میں وہ دانت نہیں ہے اور نہ متعفن عضو حقیقت میں عضو ہے اور سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو اکھیڑ دیا۔