بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 100 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 100

100 موقع پر استعمال کرنے کے بعد اور پھر خدا کی راہوں میں وفاداری کے ساتھ قدم مارنے اور اسی کا ہو جانے سے ملتی ہے۔جو اس کا ہو جاتا ہے اس کی یہی نشانی ہے کہ وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔عارف ایک مچھلی ہے جو خدا کے ہاتھ سے ذبح کی گئی اور اس کا پانی خدا کی محبت ہے۔" ( ص ۳۵) تصرف شدہ عبارت : (۷) اخلاق کے شعبوں میں سے وہ شعبہ ہے جو ادب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی وہ ادب جس کی پابندی وحشیوں کو ان کی طبعی حالتوں کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں مرکز اعتدال پر لاتی ہے اور اس زندگی سے نجات بخشتی ہے جو وحشیوں، چوپاؤں یا درندوں کی طرح ہو۔“ ( ص ۹۰۸۹) " اسلامی اصول کی فلاسفی " (1) " یہ اصلاح اخلاق کے شعبوں میں سے وہ شعبہ ہے جو ادب کے نام سے موسوم ہے یعنی طبیعی حالتوں کھانے پینے اور شادی کرنے وغیرہ تمدنی امور میں مرکز اعتدال پر لاتی ہے اور اس زندگی سے نجات بخشتی ہے جو وحشیانہ اور چوپایوں یا درندوں کی طرح ہو۔" (ص ۴۵۴۴۴ تصرف شده عبارت : (۸) " دوسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جب کوئی انسانیت کے ظاہری آداب سیکھ لے تو اسے انسانیت کے بڑے بڑے اخلاق سکھائے جائیں اور انسانی قوئی میں جو کچھ بھرا پڑا ہے ان کو موقع و محل کے مطابق استعمال کرنے کی تعلیم دی جائے۔" " اسلامی اصول کی فلاسفی " (۸) ” دوسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جب کوئی ظاہری آداب انسانیت کے حاصل کر لیوے تو اس کو بڑے بڑے اخلاق انسانیت کے سکھائے جائیں اور انسانی قوی میں جو کچھ بھرا پڑا ہے ان سب کا کل اور موقع پر استعمال کرنے کی تعلیم دی جائے۔" حل