بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 101
(ص) ۳۶) 101 تصرف شده عبارت: (۹) " تیسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جو لوگ اخلاق فاضلہ سے متصف ہو گئے ہوں انہیں شربت وصل کا مزا چکھایا جائے۔" "اسلامی اصول کی فلاسفی " (1) " تیسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جو لوگ اخلاق فاضلہ سے متصف ہو گئے ہیں ، ایسے خشک زاہدوں کو شربت محبت اور وصل کا مزا چکھایا جائے۔" ( ص ۳۶) تصرف شده عبارت : (۱۰) ' دماغ کو ایک مقام پر چوٹ لگنے سے سارا حافظہ بگڑ جاتا ہے۔دوسرے مقام پر چوٹ لگنے سے ہوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں۔وہا کی ایک زہریلی ہوا آنا فاناً میں جسم پر اثر کر ا کے روح کو بھی متاثر کر دیتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ روحانی سلسلہ جس سے اخلاق کا نظام وابستہ ہے درہم برہم ہو جاتا ہے یہاں تک کہ انسان دیوانہ سا ہو کر چند منٹ میں گزر جاتا ہے۔" (ص) ۲۸) "اسلامی اصول کی فلاسفی " (۱۰) ” دماغ کے ایک مقام پر چوٹ لگنے سے یک لخت حافظہ جاتا رہتا ہے اور دوسرے مقام پر چوٹ لگنے سے ہوش و حواس رخصت ہوتے ہیں۔وبا کی ایک زہریلی ہوا کس قدر جلدی سے جسم میں اثر کر کے پھر دل میں اثر کرتی ہے اور دیکھتے دیکھتے وہ اندرونی سلسلہ جس کے ساتھ تمام نظام اخلاق کا ہے درہم برہم ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ انسان دیوانہ سا ہو کر چند منٹ میں گزر جاتا ہے۔" (ص) ۲۷) مذکورہ بالا دس عبارتیں جو کافی طویل ہیں اور جن کا صرف کچھ ابتدائی حصہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ایسی ہی تصرف شدہ بہت سی عبارتیں اور بھی کتاب مذکور میں مولف