زندہ درخت

by Other Authors

Page 266 of 368

زندہ درخت — Page 266

زنده درخت کہ معمول تھابات گھوم پھر کر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر آکر ٹھہرتی یہ بیچارہ مولوی جس نے محض طنز کے طور پر آوازہ کسا تھا وہ بھلا کس طرح اس نبرد آزمائی میں ثابت قدم رہتا تھوڑی دیر بعد نماز ظہر کا وقت ہو گیا تو وہ نماز پڑھانے چلا گیا۔فارغ ہو کر گھر میں جا گھسا۔وہاں یہ گفتگو سنے طغلوالہ کے سکھ دوست بھی جمع تھے۔وہ بھی انتظار میں تھے کہ مولوی نماز پڑھ کر آئے تو آگے بات چلے۔جب غیر معمولی دیر ہوئی تو ان میں سے چند ایک اس کو گھر سے بلا کر لائے وہ آیا تو اس حال میں کہ ایک سکھ دوست نے اس کو بازو سے تھام رکھا تھا اور اس کے ہاتھ میں آر ہوئی اور وہ جوتی جو اس کے پاس زیر تیاری تھی پکڑی ہوئی تھی۔وہ عذر کرتا کہ میں نے کام دینا ہے میں نے وعدہ کیا ہوا ہے۔مجھے فرصت نہیں ہے وغیرہ۔مگر وہ دوست مانتے نہیں تھے۔اور اس کو ہماری باتوں کا جواب دینے پر اُکساتے تھے۔مگر اس کے پاس جواب ہو تو وہ ٹھہرے وہ پھر غذر کرتا اُٹھنا چاہتا مگر وہ پکڑ کر بٹھا لیتے۔ایک سکھ معمر دوست نے اس کو کہا کہ تم جو جو تا بنارہے ہو۔اگر اس کو آج مکمل بھی کر لو تو پھر بھی مشکل سے تم اس کی فروخت سے سات آٹھ آنے کما پاؤ گے۔لو میں تمہیں ایک روپیہ دیتا ہوں۔اب تمہیں عذر نہیں ہونا چاہئے۔ایک روپیہ پا کر بھی وہ بحث جاری رکھنے پر آمادہ نہ ہوا۔بھائی عبدالرحیم صاحب ) بڑے طباع اور ذہین تھے۔دکان کے سامنے دلچسپ اور جاذب نظر بورڈ لکھ کر آویزاں رکھا کرتے اپنی بنائی ہوئی مٹھائیوں کی تعریف میں بورڈ لکھتے جس میں آپ کو ایک خاص ملکہ حاصل تھا۔اس جدت طرازی سے کام اچھا چل نکلا۔تلاش و جستجو آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا۔کئی کام کئے اور ہر کام کو کرتے ہوئے ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ع مد نظر رہا۔بظاہر معمولی کئی اہم کام کئے مگر ان کی تہہ میں جا کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ روپیہ اُن پر عاشق تھا۔اس قدر معمولی کاموں سے تقسیم ملک کے وقت وہ کم و بیش دو لاکھ روپے کی جائیداد کے مالک تھے۔“ (صفحه 100 تا 102) 266