زندہ درخت — Page 267
زنده درخت 35- ہمارے پیارے خالو عبد الرحیم دیانت صاحب تحریر: حبیب احمد طارق- ادیان اپنے والدین سے خالو جان کے سارے خاندان سے حسن سلوک کا بہت ذکر سنا ہوا ہے۔تقسیم کے بعد ہمارے خاندان میں سے جن افراد کو قادیان دارالامان میں رہنے کی سعادت ملی اُن میں میرے خالو جان۔میرے والد صاحب محترم بشیر احمد صاحب بانگروی اور میرے والدین کے ماموں محترم میاں احمد دین صاحب تھے۔میرے والدین نے ہمیں بزرگوں کی عزت کا درس دیا۔خالو جان ( جو دراصل میرے والدین کے خالو جان تھے جن سے سن کر ہم بھی خالو جان ہی کہا کرتے تھے ) گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے گھر میں آتے جاتے تھے۔ہر بیماری ، دکھ، خوشی غمی کے موقع پر آپ سے مشورہ کیا جاتا۔بہن بھائیوں کے رشتے بھی آپ کے مشورہ سے ہوتے۔میں اور میری چھوٹی بہن جب بھی آپ کے پاس جاتے تو پیار بھری نصیحتیں فرماتے۔کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتے۔آپ نے ایک شہتوت کا درخت لگایا ہوا تھا۔اُس کا پھل ہمارے لئے سنبھال کر رکھتے ایک دفعہ مجھ سے کوئی دعاسنی جو مجھے اچھی طرح یاد نہ تھی پیار سے وہ دعا مجھے یاد کروائی۔میں چھوٹا تھا امی جان کے ساتھ اکثر اُن کے پاس چلا جا تا۔آپ دیر تک امی جان سے اپنے بچوں کی باتیں کرتے رہتے۔میری امی جان کو آپ کی خدمت کا خوب موقع ملا۔آپ پاکستان میں فوت ہوئے جب جنازہ قادیان لایا گیا تو میرے ابا جان واہگہ بارڈر پر گاڑی لے کر گئے۔ایک فیض رساں محبت کرنے والی شفیق ہستی ہم سے بچھڑ گئی۔جن کی تربیت سے ہم نے بزرگوں کا ادب کرنا سیکھا اور اس سے فیض پایا۔267