زندہ درخت — Page 265
زنده درخت غصہ نہ آئے۔لیکن اصلاح اتنی جلدی تو نہیں ہوتی مجھے اپنا محاسبہ اور دعائیں کرنے کا خاص موقع ملا۔یوں تقریبا چھ سات ماہ بعد مجھے خود میں تبدیلی محسوس ہوئی الحمد للہ۔ڈاکٹر کی طرف سے جو دوائی تجویز کی گئی تھی وہ بھی چھوڑ دی تھی۔اپنی خوراک اور مزاج کا خیال رکھتی۔اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دی اور عہد کیا کہ مجھے جماعت کی طرف سے جو بھی کام ملے گا تہہ دل سے کروں گی اور جز اصرف اور صرف خدا تعالیٰ سے طلب کروں گی۔تربیت کا ی انداز ابا جان کا ایسا تحفہ ہے جو زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا اور میں ہر آن اُن کو دعاؤں کے تحفے بھیجتی رہوں گی۔انشاء اللہ العزیز۔34- وہ پھول جو مرجھا گئے محترم بدرالدین عامل صاحب اپنی کتاب وہ پھول جو مرجھا گئے، حصہ دوم میں لکھتے ہیں کہ 1942ء میں پہلی دفعہ وہ میاں عبدالرحیم صاحب کے ساتھ تبلیغی ٹرپ پر گورداسپور کے پاس ایک گاؤں میں گئے تھے اور اُن کی پر لطف گفتگو سے اس قدر محظوظ ہوئے تھے کہ اگلے سال بھی آپ کی معیت میں یوم ( دعوت الی اللہ ) منا نے گھوڑے واہ گئے۔” لہرائے سے ہوتے ہوئے طغلوالہ پہنچے وہاں پر ایک غیر احمدی مولوی مسجد میں امامت کے فرائض کے ساتھ ساتھ فارغ وقت میں کفش دوزی کا شغل فرماتے تھے۔رستہ میں بڑے درخت کے نیچےمل گئے۔انہوں نے ہمیں دیکھ کر کہا کہ آ گیا لوگوں کو گمراہ کرنے کا دن (یوم دعوت الی اللہ پر اس قسم کے آوازے احمدیوں پر غیر احمدی افراد کی طرف سے کسے جاتے تھے۔) وہیں پر ان سے صداقت حضرت مسیح موعود پر گفتگو کا آغاز ہوا۔اور جیسا 265