زندہ درخت — Page 181
زنده درخت کے کام میں حصہ لینے کی توفیق ملی۔ایک حفاظتی دیوار بنائی گئی جو بہشتی مقبرہ کے جنوبی جانب سے شروع کی گئی وہ پانچ فٹ موٹی اور بہشتی مقبرہ کے اندر کی طرف سے چھ فٹ جبکہ باہر کی طرف سے ساڑھے آٹھ فٹ اونچی تھی پھر مشرقی جانب والی دیوار کے لئے چونکہ دور سے مٹی لا نا پڑتی تھی اس لئے موٹائی صرف دوفٹ رکھی گئی اونچائی پہلی دیوار جتنی ہی تھی۔اس کام میں بالعموم سب درویشوں نے حصہ لیا۔اس کے بعد 1955ء میں قادیان میں سیلاب کی وجہ سے جب یہ دیوار گر گئی تو پختہ دیوار تعمیر کی گئی۔آپ مقبرہ کی تزئین ، آرائش، یادگاری کتبے مرمت و دیکھ بھال کا کام بھی کرتے رہے۔اس کے علاوہ دار مسیح اور دیگر مکانات میں تعمیر ومرمت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔اینٹ روڑے مٹی گارے میں آئے وہ ہاتھ جو قادیان میں مصروف عمل تھے اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہوں گے۔ہمیں یہ تو علم نہیں کہ ابا جان کو کس کس کام کی توفیق ملی مگر خطوط میں جس جوش وجذبہ سے ذکر کیا ہے اُسے نمونہ ٹھہرا کر خدمات کی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔حفاظت مرکز کے فریضہ کی ادائیگی کا احساس اور جسمانی مشقت : 16-8-1949 رات دو بجے میری طبیعت آناً فاناً خراب ہو گئی سوا تین بجے نماز تہجد میں شریک تو ہوا مگر کمزوری اور گھبراہٹ تھی (بیت) مبارک کی ڈیوڑھی میں سوتا ہوں۔قصر خلافت کے صحن کا فرش جو مغربی جانب سے دب گیا تھا لگا رہا ہوں۔یہ بہت ضروری تھا۔اسی حالت میں کام کرتا رہا۔دفتر امانت پر مٹی ڈال دی ہے۔”اماں جان کی عائشہ کے مکان کا ایک حصہ گر گیا تھا آج کل مرمت کا کام زوروں پر ہے۔23-8-1949 ( دفتر ) محاسب کی چھت ڈالی ہے اور اب حضرت اماں جان کی عائشہ کی 181