زندہ درخت — Page 182
زنده درخت دیوار کچی مغربی گراج کی طرف گر گئی تھی بنا رہا ہوں۔پختہ کر رہا ہوں۔اینٹ تلاش کر کے لاتے ہیں عجیب نظارہ ہوتا ہے جب دو اڑھائی سو درویش کبھی اینٹ اور کبھی لکڑیاں اُٹھا کر قطار وار لا رہے ہوتے ہیں۔حکم ہوتا ہے سب نے ایک جگہ جانا ہے وہاں پر لکڑیاں یا جو کام ہوتا ہے تیار ہوتا ہے کام عجیب شوق اور جذبہ سے کیا جاتا ہے۔فجز اہم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔9-9-1949 خدا خیر کرے برسات اس قدر ہوئی ہے کہ کام سے فرصت نہیں اُستانی برکت بی بی صاحبہ زوجہ ٹھیکیدار اللہ یار مرحوم کو میرا سلام کہ دیں ( بیت) فضل کی طرف کے سب کچے مکان ہموار ہو گئے ہیں اب اپنی جگہ کو محفوظ کرنے کے لئے بیت فضل سے لے کر منشی فضل کریم صاحب کے مکان تک پختہ دیوار بنانے کی تیاری کر رہے ہیں ( بیوت ) میں اب گورنمنٹ کی گندم ہے (بیت) نور، دار الفضل، دار الفتوح میں اور غالباً دار الرحمت میں بھی۔جماعت کے لئے خون پانی قرار دینے کی تلقین اور عمل : 18-12-1949 ( بیت ) مبارک میں سینکڑوں درویش اپنی آہ و بکا سے آسمان کو بلا بلا کر روئے عالم کے مسلمانوں کی بہبود مانگتے ہیں۔سجدہ گاہ میں تر بتر آپ سب کے لئے دعا کرتا ہوں فکر منہ کر یں چند روز کا ابتلا ہے۔جیو تو اللہ کے لئے مروتو اللہ کے لئے۔جو حالات گزرے ہیں۔سینکڑوں لوگ تڑپ کر مرے اور جانوروں کی خوراک بن گئے ہمیں احمدیت کے سہارے اس موت سے بچایا اس زندگی کو جماعت کے کام میں لگا دوے جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو ہے کہ حق ادا نہ ہوا 182