زندہ درخت — Page 180
زنده درخت اس پر ایک بیضوی مہر بھی لگی ہوئی ہے جس پر کندہ ہے۔MD۔Shamsuddin Ahmadi Ahmadia Library Barahpura Bhagalpur اباجان نے اس پر نوٹ لکھا ہے۔یہ کتاب ایک خاص نظریہ سے خریدی ہے۔امید ہے عزیز ( ناصر احمد ) کو اس سے بہت خوشی ہو گی۔کم از کم میں تو اس سے بہت خوش ہوا۔“ والسلام عبدالرحیم 66-12-7 اس طرح یہ کتاب ہم دونوں کے لئے قیمتی یادگار ہوگئی۔iiحفاظت مرکز کے لیے تعمیراتی کاموں کی سعادت وہ جانباز دار الاماں کے محافظ دیار مسیح زمان کے محافظ صداقت کے روشن نشاں کے محافظ یہی ہیں وہ خوش بخت سرکار بندے ہیں درویش حق کے وفادار بندے درویش مرحوم نے درویشی اختیار کرنے سے پہلے کبھی معماری کا کام نہیں کیا تھا۔اپنے مکانات و دو کا نات بنوانے کے سلسلے میں کام کی نگرانی بذات خود کرتے جس کی وجہ سے تجربہ کافی ہو گیا تھا۔بتایا کرتے تھے کہ شدید بارشوں کی وجہ سے بعض پرانی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور حفاظتی نکتہ نظر سے بعض ضروری کام در پیش تھے۔ہمارے نگران نے سب کو جمع کر کے اور سلسلہ کی ضرورت بتا کر معماروں کو آگے بڑھ کر کام سنبھالنے کی تحریک کی مگر کوئی بھی سامنے نہ آیا تو میں نے آگے ہو کر کہا کہ مجھے ایسا تجربہ تو نہیں ہے البتہ اگر تیسی کا نڈی مہیا کر دی جائے تو امید ہے کہ یہ ضرورت بخوبی پوری کر سکوں گا۔اس طرح آپ مستری صاحب بن گئے۔حفاظت مرکز کے سلسلے میں نومبر 1947ء کو بہشتی مقبرہ کی کچی چار دیواری بنانے 180