زندہ درخت — Page 163
زنده درخت میری بدحواسیوں سے اندازہ لگا کر میری مدد کو آئے اس طرح جان بچ گئی اور میں نے دوبارہ پانی میں جانے کا خیال چھوڑ دیا۔۷- محض اللہی تعاون : ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کیلئے چائے کے لوازمات خریدنے کے لئے امرتسر گیا۔بیکری کی چیزوں سے بھرے ہوئے ڈبوں کے ساتھ اسٹیشن پر آیا تو جلسہ کے مہمانوں سے ٹرین کے سب ڈبے بھرے ہوئے تھے آخر ایک ڈبے میں جگہ ملی ٹوکریاں رکھ لیں تو میری نظر فرش پر پڑی جہاں ایک شخص کیچڑ میں لت پت اس حالت میں پڑا تھا کہ گو یا دم توڑ رہا ہو مجھے صورت کچھ شناسا معلوم ہوئی۔غور کیا تو وہ صوفی فضل الہی صاحب تھے میں ان کی دعوت کر چکا تھا صاحب الہام مستجاب الدعوات نیک آدمی تھے گاڑی میں ایک پندرہ سولہ سال کی لڑکی گود میں شیر خوار بچہ لئے ہوئے ان کی تیمارداری کر رہی تھی۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ صوفی صاحب کی بیوی ہے میں نے انہیں سنبھالا۔انہوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا کچھ حوصلہ ہوا۔میں نے اسٹیشن ماسٹر بٹالہ سے کہا کہ قادیان بذریعہ تار اطلاع کر دیں کہ بمبئی والے صوفی صاحب آرہے ہیں دمہ کا شدید حملہ ہے۔کوئی ڈاکٹر صاحب اور چار پائی اسٹیشن پر پہنچا دیں قادیان پہنچے تو سب سامان موجود تھا ان کو بحفاظت استقبالیہ تک پہنچا دیا۔اب اپنے سامان کا خیال آیا تو معلوم ہوا کہ سب سامان احتیاط سے اُتار لیا گیا ہے۔جماعت کے افراد کا اخلاص و محبت قابل تشکر ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے صوفی صاحب کی اور احباب جماعت کو میری مدد کی توفیق دی۔الحمد للہ۔vi-ت ادیان کی برکت : ایک دفعہ قادیان سے ربوہ جانے کے لئے خاکسار اور مکرم مرزا عبداللطیف صاحب مالک احمد یہ درزی خانہ، درویشی کی سعادت بھی ملی ) گاڑی پر سوار ہو کر امرتسر جا رہے تھے۔گاڑی میں ایک عمر رسیدہ عورت بھی سوار ہوئی اس کے ساتھ ایک آٹھ سال کی لڑکی اور 163