زندہ درخت — Page 164
زنده درخت ایک دودھ پیتا بچہ تھا۔اس عورت نے مسلسل قادیان کی برائی کی کہتی رہی برسات کا پانی اندر آگیا۔مکان کی دیوار گر گئی چھت نے بڑا دکھ دیا یہ شہر بڑا منحوس ہے۔جب سے آئے ہیں کوئی نہ کوئی مشکل ہی مشکل ہے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے اُس عورت سے کہا مائی اس بچے کو ماں کے بغیر کہاں لے جا رہی ہو؟ اُس نے کہا یہ میرا اپنا بچہ ہے اور تین اس سے بڑے ہیں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے میں اولاد دی یہ بچے کہاں پیدا ہوئے؟ وہ عورت تو ایک دم پلٹ گئی اور کہنے لگی بھائی میری ساری عمر گزرگئی اولاد نہ ہوئی یہ قادیان کی برکت ہے جو مجھے اولاد کی نعمت ملی اگر قادیان نہ آتی تو شاید ساری عمر بے اولاد ہی رہتی۔میں نے کہا ابھی تو آپ قادیان کی برائی کر رہی تھیں اور اب اس کو مقدس بابرکت اور نعمتوں سے بھر پور بتا رہی ہو۔کچھ دیر رک کر کہنے لگی ”ہاں واقعی جو نعمتیں مجھے یہاں ملی ہیں اُس کے مقابلے میں یہ تکلیف تو کچھ بھی نہیں“۔سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو ہر کس و ناکس کے لئے بابرکت کر دیا۔اولاد کی نعمت سے شاہ جہان یو پی کے حکمت اللہ صاحب یاد آ گئے۔اُن کو بھی قادیان سے باہر جب تک رہے کوئی بچہ نہیں ہوا۔قادیان آ کر دعاؤں میں لگ گئے اس دارالامان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے لڑ کے بھی ہوئے لڑکیاں بھی۔الحمد للہ۔vii- ایک اتفاقی حادثہ کی دیر پا تکلیف : میں الیکشن کا ووٹ ڈالنے کے لئے اپنے نام کی پر چی لینے جارہا تھا سامنے سے احمد یہ اسکول کا ایک لڑکا بھاگتا ہوا آرہا تھا۔میں ٹکر سے بچنے کے لئے ایک طرف جھکا جس سے پاؤں مڑ گیا اور سارا جسم بے سہارا ہو کر بیت مبارک کی مغربی دیوار اور نالی کے درمیان فرش پرسپاٹ گر گیا۔بائیں کندھے پر شدید چوٹ لگی کہ سارا ہاتھ سن ہوکر رہ گیا۔ووٹ کی پرچی پتہ نہیں کدھر گئی اُٹھا تو مگر چوٹ کا اتنا اثر تھا کہ ووٹ دئے بغیر کسی نہ کسی طرح گھر آ گیا۔دو گھنٹے تک سکائی وغیرہ کر کے ووٹ ڈالنے گیا۔اور پھر ٹکور وغیرہ کرتا رہا۔164