زندہ درخت — Page 89
زنده درخت سکتے ہیں، میں نے یہ صاحبانِ دل پر ہی چھوڑ دیا ہے اگر اپنے احساسات شامل کرنے لگتی تو سمیٹے نہ جاسکتے تھے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ درویشان کرام کے حق میں بزرگوں کی دعائیں قبول فرمائے اور انہیں اپنے قرب خاص میں جگہ عطا فرمائے اور یہ دعا ئیں نسلاً بعد نسل ہمارے حق میں بھی قبول ہوں۔آمین۔زمانہ درویشی کے پہلے جلسہ کے موقع پر حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے فرمایاتھا: تم لوگ جن کو اس موقع پر قادیان میں رہنے کا موقع ملا ہے اگر نیکی اور تقوی اختیار کرو گے تو تاریخ احمدیت میں عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے اور آنے والی نسلیں تمہارا نام ادب و احترام سے لیں گی اور تمہارے لئے دعائیں کریں گی اور تم وہ کچھ پاؤ گے جو دوسروں نے نہیں پایا۔اپنی آنکھیں نیچی رکھو لیکن اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کرو فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَهَا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے امیر جماعت احمدیہ قادیان مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: آپ جیسے جان نثار درویشوں کا وجود اُس شمع کا حکم رکھتا ہے جو ایک وسیع اور تاریک میدان میں اکیلی اور تن تنہا روشن ہو کر دیکھنے والوں کے لئے نور ہدایت کا کام دیتی ہے۔آپ خلوص نیت اور سچی محبت اور ایک جذبہ خدمت کے ساتھ قادیان میں ٹھہرے رہیں گے اور اپنے آپ کو احمدیت کا اعلیٰ نمونہ بنا ئیں گے تو نہ صرف خدا کے حضور میں یہ آپ کی خدمت خاص قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی آپ کے نمونہ کو خر کی نظر سے دیکھیں گی“ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ یہ سعادت ہمارے خاندان میں آئی۔اس رحمانی عطیے کا جس قدر بھی شکر کریں کم ہے۔درویش کی کہانی کو زندہ کرنا بھی ایک طرح اظہار تشکر ہے۔89