زندہ درخت

by Other Authors

Page 88 of 368

زندہ درخت — Page 88

زنده درخت رحمان و رحیم کی عنایات تھیں۔قادیان میں رہائش کی شروعات اس طرح ہوئیں کہ 1917ء میں آپ کے والد ماجد صاحب نے محلہ دار الفضل میں مکان اور دکان تعمیر کرائی۔اسی مکان میں بڑے بیٹوں کی شادیوں کے ساتھ ایک ایک کمرے کا اضافہ ہوتا گیا۔عبدالرحیم صاحب کے لئے بھی پلاٹ کے جنوب مشرقی کونے میں ایک پختہ کمرہ بنا۔شادی ہوئی اس گھر میں پانچ بچے ہوئے پھر دار الفتوح میں اپنا گھر بنالیا دو بچے وہاں ہوئے اور ایک بیٹا تقسیم برصغیر کے بعد لاہور میں پیدا ہوا۔تقسیم برصغیر کے وقت قادیان میں رہنا پسند کیا اور حقیقی معنوں میں آویزندہ در ہو گئے اور قادیان سے چمٹ کر بیٹھ گئے۔عهد درویشی کا سارا عرصہ بیت مبارک کے سائے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں گزار دیا۔اس کمرے کے درو دیوار بول سکتے تو بڑی ایمان افروز اور دل گداز کہانی کہتے وہ تو خاموش ہیں لیکن اُس حجرے کی تنہائیوں میں آپ نے اپنے بچوں کو جو خطوط لکھے اور کچھ اپنی یادداشتیں قلم بند کیں وہ آپ کی خود نوشت آپ بیتی کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔خاکسار نے اسے ذیلی عناوین کے تحت مرتب کیا ہے۔اس آپ بیتی کی انوکھی بات یہ ہے کہ باپ نے لکھی اور بیٹی نے مرتب کی۔اور ایک خاص بات یہ ہے کہ لکھی بھی خاکسار کی درخواست پر جس کا اظہار آپ نے اپنے ایک مکتوب میں کیا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے میں نے باری باری اور خاص کر باری کا نام لے کر دعا کر دی میری بچی باری کا تقاضا کافی اثر پذیر رہا میں نے اس تحریک کو غیبی محرک خیال کر کے اپنے کچھ حالات تحریر کرنے شروع کر دیئے ہیں ایک صد صفح ہو چکے ہیں دیکھیں آپ تک کیسے پہنچیں گے۔خیر لکھا ہوگا تو کسی وقت کام آجاے گا۔ابا جان کا خیال درست نکلا لکھا ہوا بہت کام آیا کیونکہ باپ بیٹی تمام عمر فاصلوں پر ہی رہے ساتھ ساتھ رہنے کا عرصہ بہت ہی کم ہے۔انہیں تحریروں سے آپ کو جان پہچان سکی۔آپ نے کئی جگہ لکھا ہے۔اختصار سے کام لیا ہے صاحب دل ان سے مضامین بلکہ کتابیں بنا (8-8-1971) 88