زندہ درخت

by Other Authors

Page 81 of 368

زندہ درخت — Page 81

زنده درخت کر لیتی ہوں۔اس طرح اس شفیق ہستی نے آپ کے سر میں تیل لگایا۔دوسرے جب آپ کے شوہر کا انتقال ہوا تو حضرت اماں جان باوجود ناسازی طبع کے تعزیت کے لئے تشریف لائیں۔کسی نے کہا کہ آپ بعد میں آجاتیں اس قدر تکلیف کیوں کی تو فرمایا کہ اس کی ماں برکت بی بی میری عاشق تھیں میں کیسے اس کے دکھ درد میں شریک نہ ہوتی۔محترمہ صالحہ صاحبہ نے یکم اپریل 1993ء کو وفات پائی۔12اپریل کو بیت اقصیٰ ربوہ میں نماز جنازہ ہوئی جس میں مشاورت کی وجہ سے آنے والے معزز مہمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مرحومہ موصیب تھیں ، بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔6 - محترم محمد عبد اللہ صاحب 19 اپریل 1911 ء کو ہرسیاں میں پیدا ہوئے۔1917ء میں خاندان کے ساتھ قادیان ہجرت کی محلہ دارالفضل میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے روح پرور خطابات نے طبیعت کی شوخی کو دینی جوش میں بدل دیا۔ہر حکم پر عمل کرنا شعار بنالیا۔ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ مجھے ایسے مخلصین کی ضرورت ہے جو سلسلہ کی ضرورت کے لئے اپنی سب جائداد پیش کر سکیں۔آپ نے بھی نام لکھوا دیا بلکہ کچھ دن بعد عرض کی کہ جائداد طلب فرمائیں۔حضور نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ ابھی طلب کروں گا۔آپ نے نیت کی ہے تو ایک فیصد ادا کر دیں۔آپ نے ایک فی صد ادا کر کے خلیفہ وقت کے فرمان پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کر لی۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ باہر کی آبادی والے کوئی ایک نماز (بیت) مبارک میں آکر پڑھا کریں۔آپ نے فجر یا عشاء کی نماز میں شامل ہونا شروع کر دیا ( بیت ) مبارک میں حضرت صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔ایک دفعہ علالت طبع کی وجہ سے نماز پڑھانے تشریف نہ لا سکے تو عبداللہ صاحب نے سوچا جب تک حضور نماز پڑھانے نہیں آتے قریبی ( بیت ) میں ہی نماز پڑھ لیا کروں گا۔جب جمعہ پڑھنے ( بیت ) مبارک گئے تو سامنے ہی جگہ ملی حضور نے 81