زندہ درخت — Page 275
زنده درخت بڑے بڑے لوگ عقیدت و احترام سے اس کے حلقہ درس میں شامل ہیں گھر آ کر اس نوجوان کی تعریف کی اس خاتون نے کہا کہ آپ کی اشرفیاں اس نوجوان کی جو آپ کا بیٹا ہے تعلیم و تربیت پر خرچ ہوئی ہیں۔اباجان یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس خاتون نے ایک بچے کی تعلیم و تربیت کی جبکہ اشرفیوں کی تحصیلی بھی اس کے پاس موجود تھی مگر میری بیوی نے میرے آٹھ بچوں کی تعلیم و تربیت کی جبکہ میں تو اسے کوئی تھیلی بھی نہ دے سکا تھا۔اماں جی نے بڑے سخت وقت دیکھے مگر بڑے وقار کے ساتھ ان سے عہدہ برآ ہوئیں، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میری ایک بہن کی بیماری شدت اختیار کر گئی جب ان سے پوچھا گیا کہ اسے دوائی کیوں نہیں دی، ہسپتال سے دوائی دلانے میں صرف دو پیسے کی پرچی بنوانی پڑتی ہے تو پتہ چلا کہ بچی کے علاج کے لئے مامتا دو پیسے بھی مہیا نہیں کر پائی۔ایسے اور اس جیسے اور واقعات میں ہم نے ہی نہیں ہمارے سب جاننے والوں نے دیکھا کہ آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے یہ وقت گزارا۔وقار اور سفید پوشی پر کبھی کوئی داغ نہ لگنے دیا، مگر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم سب نے انہیں سخت متفکر و پریشان دیکھا اور ایسا اس وقت ہوا جب انہیں ابا جان کی شدید بیماری کی اطلاع ملی۔سب بچوں کو تاکید کی کہ ابا جان کو زیادہ با قاعدگی سے خط لکھیں بزرگوں کے پاس جا کر دعا کی درخواست کرتیں قادیان سے مسلسل رابطہ رکھا خود وہاں جا کر تیمار داری کا فرض ادا کرنے کی کوشش کی غرضیکہ ہر انسانی کوشش کی میرا یقین ہے کہ وہ اپنے خاوند کے لئے ہی اتنی پریشان و بے قرار نہ تھیں کیونکہ اسے وہ عملاً جوانی کی عمر میں ہی خدا تعالی کی خاطر چھوڑ آئی تھیں یہ پریشانی وفکر ایک درویش خاوند کو ایک درویش بیوی کا نذرانہ محبت وعقیدت تھا۔1976ء میں اپنی شادی شدہ زندگی کا نصف سے زیادہ عرصہ اپنے خاوند سے الگ بہت بڑی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بڑے ہی سیلقہ ، وقار، متانت و عزت سے گزار کر بڑی مختصر بیماری کے بعد با مرا دو کامیاب خوش خوش خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گئیں۔275