زندہ درخت

by Other Authors

Page 274 of 368

زندہ درخت — Page 274

زنده درخت چھوٹے بیٹے کے پاس حیدر آباد گئی۔شام کو مجھے یہ خیال آیا کہ ان کے پاس کوئی زائد چار پائی تو نہیں ہے اور سوتے وقت مشکل پیش آئے گی اور بچے میرے آرام کی خاطر خود تکلیف اٹھا ئیں گے کیا ہی اچھا ہو کہ اللہ تعالی غیب سے چار پائی مہیا فرما دے۔میں ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ کسی نے باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ آپکے ہاں مہمان آئے ہیں آپ کو چار پائی کی ضرورت ہوگی یہ چار پائی لے لیں۔اس غیبی تائید کا ذریعہ بننے والے فرشتہ سیرت بزرگ مکرم مرزا محمد ادریس صاحب سابق مربی انڈونیشیا اور مرزا محمد اکرم صاحب کے والد محترم مرزا محمد اسماعیل صاحب تھے۔جیسا کہ ذکر آچکا ہے 35 سال کی عمر میں اماں جی پاکستان آگئیں میرے والدین جو ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے مسابقت فی الخیرات کے جذبہ سے زندگی حاصل کرنے لگے اگر اماں جی میں ایمان و توکل اور سادگی و صبر کی عادت نہ ہوتی تو ابا جی درویشی کی سعادت ہرگز نباہ نہ پاتے اماں جی نے نہ صرف اکیلے رہنے اور بچوں کی ساری ذمہ داریوں کی با احسن ادائیگی کا چیلنج قبول کیا بلکہ ابا جان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں اور کبھی پریشانی طعن و تشنیع اور کم حوصلگی کا مظاہرہ نہ کیا۔قادیان میں قیام کے ایام میں ابا جان ہر سال ایک مہینہ وقف عارضی پر جماعتی انتظام کے تحت جاتے تھے ابا جان کے لئے یہ نیکی بھی اماں جان کے تعاون کے بغیر ممکن نہ ہوتی اور اسی جذبہ نے درویشی کی زیادہ بڑی نیکی کی توفیق عطا فرمائی۔خدا تعالی کے فضل سے باہم افہام و تفہیم زندگی کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی مگر درویشی کی وجہ سے باہم تعلق میں دونوں طرف نقدس و عقیدت کا رنگ آ گیا۔ابا جان اکثر یہ بات دہرایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ کسی لمبے سفر پر جاتے ہوئے اشرفیوں کی تحصیلی اپنی بیوی کو امانتاً دے گئے۔کئی سالوں کے بعد واپس آ کے ادھر ادھر کی باتوں میں اشرفیوں کا ذکر بھی آیا اس خاتون نے کہا کہ جلدی کیا ہے آپ کو سب کچھ بتاؤں گی پہلے نماز پڑھ آئیں وہ بزرگ بیت میں نماز پڑھنے گئے وہاں ایک نوجوان کو درس دیتے ہوئے دیکھا اور یہ بھی کہ 274