زندہ درخت — Page 229
داماد کی مقدرشناسی : 20-12-1957 زنده درخت میری درویشی کے صلے عزیزی خورشید احمد آپ مجھے اپنے تینوں بیٹوں سے زیادہ عزیز ہیں۔دل سے کہتا ہوں آپ کے خصائل ، نیکی ، فروتنی اور ٹھنڈی طبیعت پر میں بہت خوش ہوں۔جلسہ سالانہ کی تیاری زوروں پر ہے۔حتی المقدور خدمت کرتا ہوں۔ابھی اسٹیج بنا کر آیا ہوں۔“ ایک حیرت انگیز حکیمانہ رد عمل : بھائی جان عبدالمجید نیاز اور عبد الباسط صاحب جامعہ احمدیہ میں پڑھتے تھے جو احمد نگر میں تھا۔کسی وجہ سے بھائی جان باسط کا وظیفہ روک لیا گیا۔ابا جان کا طبعی رد عمل تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں درویش ہو گیا ہوں بیوی بچے اللہ تعالیٰ کے سپرد کئے ہیں جماعت نے یہ کیسا فیصلہ کیا ہے کہ میرے بچے کا وظیفہ روک لیا۔وغیرہ وغیرہ۔مگر ایک فنا فی اللہ متوکل انسان کا رد عمل دیکھئے۔ذہن میں یہ بھی رہے کہ اُن دنوں امی جان کو پورے خاندان کے لئے صرف پندرہ روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔13-8-1950 عزیز باسط کے وظیفہ کی فکر کیسی۔احمدی ہے یار کی رضا میں راضی رہے۔یہ تو ہے بھی اللہ والا۔اگر وظیفہ بند ہوا اس پر بھی خوش ہونا چاہیے۔یہ وقت تو انشاء اللہ گزر جائے گا۔سلسلہ سے زیادہ قابلِ امداد اس وقت کون ہے؟ بد حالی اور بے بسی پر گھبراہٹ ایک احمدی کو تو ہو ہی نہیں سکتی۔جب تک مٹی کا برتن آگ میں نہ جلے پانی لے کر دوسرے کو فیض نہیں پہنچا سکتا اسی طرح انسان مشکلات سے نہ گزرے تو نہ خود کھڑا رہ سکتا ہے نہ زندہ اور باقی رہ سکتا ہے اور نہ دوسروں کو فیض پہنچا سکتا ہے سو وہ اگر معرفت اور قرب اور عرفان 229