زندہ درخت — Page 228
12-1951 میری لاڈلی طیفو ! زنده درخت مجھے آپ سے آج اُلفت نہیں ہوئی آپ کی پیدائش پر اگر چہ بیٹی تھی بیٹیوں سے بڑھ کر خوشی کی سجدہ شکر ، خیرات، رشتہ داروں کو تحائف ، دو بکرے عقیقہ پر تکلف دعوت کی۔تمہاری والدہ سے ضد کر کے لیتا اور اپنے دوستوں کو دکھاتا۔قدم قدم چلنا شروع کیا تو سب سے اعلیٰ کپڑےسنہری تاج پہنایا آپ کو خوش کر کے جنت محسوس کرتا۔آپ نے بھی اس کا بدلہ جس ادب، خدمت اور عفت سے دیا تا دم آخر نہ بھولے گا۔دعا کرتا رہوں گا۔آپا لطیف کے خسر محترم با بوسلامت علی صاحب کے نام مکتوب :- 16-10-1951 آج ڈھائی بجے اپنی بیٹی کو دعوۃ الا میر رجسٹر ڈ ڈاک سے بھیجنے گیا تو آپ کا تار ملا۔اللہ عزیزہ لطیف کی شادی کو سلسلہ عالیہ احمدیہ اور جانبین کے لئے بے نہایت برکتوں کا موجب بنائے اے میرے اللہ قادر وکریم ایسا ہی کر۔15/14 کی درمیانی شب بیت الدعا میں دعا کرتے ہوئے اذان کے انتظار میں سو گیا تو ایک خوشکن نظارہ دیکھا آمنہ،لطیف اور باسط کو دیکھا گویا امن ، کشاکش ، لطف قلبی اطمینان حاصل ہوا۔میری بچی کو رخصتانہ کے وقت میرا دست شفقت میسر نہیں آیا اُمید ہے آپ اُس کے سر پر میری طرف سے ہاتھ رکھیں گے میں نے بچوں کو نا ز نعمت لا ڈاکرام سے پالا ہے خدا کرے جس طرح اس نے میری اطاعت وفرمانبرداری کی ہے آپ کے گھر کو بھی محبت اتفاق اور برکتوں سے بھر پور کرنے کا باعث ہو آمین۔228