زندہ درخت — Page 196
زنده درخت عبدالباسط صاحب و دیگر دوست احباب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا محبت بھرا خط ملا خوشی ہوئی میں آپ کو جلدی جلدی خط لکھنے پر مجبور ہوں اس لئے کہ میرے جگر گوشے اور عزیز واقارب تسلی تشفی اور مسرت حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی خاص حفظ وامان میں رکھے۔میں انشاء اللہ درجات الادب تلاش کر کے آپ کو ارسال کرنے کی کوشش کروں گا سر دست میری دلسوز دعائیں ان کو اور ان کے خاندان کو پہنچا دیں غالباً یہ نور الحق فیض اللہ چک والے ہیں بہر حال ان کا جذ بہ علم قابل قدر ہے اور میں اس جذبہ کی قدر کر کے دعا بھی کروں گا اور کتب بھی ارسال کروں گا۔حالات اب قدرے ٹھیک ہیں قیامت صغری تھی جو خدا کے فضل سے مل گئی ہے ست نام سنگھ جو ملک بابا غلام فرید صاحب کی کوٹھی میں رہتے ہیں بڑی مدد کرتے ہیں۔اللہ جزائے خیر دے میاں ظفر احمد صاحب میاں مودود احمد صاحب اور دو دوسرے شخص مغربی پاکستان خیریت سے پہنچ گئے ہیں البتہ نسیم احمد کا تاحال کچھ پتہ نہیں چلا بے بسی ہے دعائیں کرتا ہوں رات کا اکثر حصہ عزیز کے لئے دعاؤں میں گزرتا ہے۔ان حالات میں آمنہ کی بھی کسی طرح کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ان کی قربانی، نیکی ، بردباری، صبر حلم معاملہ نہی کی ہمیشہ ہی دل سے قدر کی اس قدر دانی میں حد سے بھی تجاوز کر جاتا مگر قدرت نے ہمیشہ ایسے ماحول کو نا پسند کر کے روک کھڑی کر کے اپنی ذات ہی کو منوانے کا سامان کر دیا۔“ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں 1974ء ابتلاء و امتحان کے دور کا آغاز بن کر آیا۔اس خط میں آپ کے احساسات ملاحظہ ہوں :- 5-9-1974 ” خدا تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ عزیزوں کی خیر برمل رہی ہے مکمل خبروں 196