زندہ درخت — Page 195
زنده درخت 13-7-1950 در صبح چھوٹی بیگم صاحبہ کا خط سنا کچھ عجیب درد سے لکھا تھا ہر آنکھ اشک بارتھی ہچکیوں نے شور بپا کر رکھا تھا شاید ہی کوئی ہو جوموم نہ بناہورات بھر تقریباً جاگنے کے بعد پانچ سے ساڑے چھ بجے تک سویا کرتا تھا حرام ہے جو نیند آئی ہوکروٹ بدلتا رہا۔آپ کی امی میرا رقیق القلب ہونا جانتی ہیں۔پھر ایسے ماحول میں میرا حال سوچو ( بیت) سے آکر چار پائی پر لیٹا مگر آنسوؤں کی روانی میں کمی نہ آئی اب مینار گیارہ بجارہا ہے میاں خودا اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہر وقت یادر ہیں پھر اب کیسے ایک دم کو بھی بھولیں گے محترمہ بیگم صاحبہ سے میرا سلام کہنا اور عرض کرنا ہم سب درویش آپ سے زیادہ نہیں تو کم درد سے دعا نہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کی ہر مشکل آسان فرمائے آمین سارے روزے خدا کے فضل سے رکھے ہیں خدا کرے آپ کی عید اچھی ہو۔ہماری بھی جگر پاروں اور خاندان والوں سے دور اچھی عید ہو۔جب کبھی موقع ملے تم کو دعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہلِ وفائے قادیاں جون 1955ء کے ایک خط میں تحریر ہے: ویزا اور پاسپورٹ مل چکا ہے ایک تو گرمی اس قدر ہے کہ الاماں دوسرے ایک الیکشن کے سلسلے میں نظارت امور عامہ نے 55-6-19 تک قادیان میں رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔سارے شہر میں اس قسم کے 18 ووٹ ہیں جن میں ایک میرا ہے۔ایک کم ہونے سے ،، نقصان کا احتمال بلکہ یقین ہے۔“ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ پیش آیا میرے ایک چچازاد بھائی عزیزم نیم احمد سیفی صاحب ( کرنل ریٹائرڈ ) جنگی قیدی بنالئے گئے۔ابا جان نے نہایت تندہی اور بیدار مغزی سے ہر وسیلہ اختیار کیا تا کہ اُن کی خیریت سے ہمیں مطلع کر سکیں۔195