زندہ درخت — Page 171
زنده درخت احبزادی ناصرہ بیگم صاحب کا تحفہ: 1948ء کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ایک صاحب نے بتایا کہ ایک غیر مسلم کے پاس سلسلہ کی کچھ کتابیں ہیں جو وہ فروخت کرنا چاہتا ہے مگر اُس کا پتہ جو بتایا وہاں جانا بہت خطر ناک تھا۔میں نے معذرت کی اور کہا کہ کتب یہاں لے آئیں میں خرید لوں گا۔مگر وہ آدمی ( جو آج کل حضرت میاں بشیر احمد کے فارم (Farm) پر بطور منیجر حکومت کی طرف سے مقرر ہے ) نہ مانا۔کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچا تو کتا بیں دیکھ دیکھ کر عجیب ملے جلے جذبات کی کوئی حد نہ رہی وہ کتابیں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی کوٹھی سے لائی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔میں نے سوچا ان کو ہر قیمت پر خریدنا ہے وہ آدمی بڑا ہشیار تھا بھانپ گیا اور مروجہ قیمت سے دس گنا زیادہ قیمت بتائی۔میں نے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اُس کو منہ مانگی قیمت ساٹھ روپے ادا کر کے خرید لیں۔اُن میں ایک بخاری شریف تھی۔خوبصورت مجلد ،سنہری نام لکھا ہوا تھا جو لجنہ اماءاللہ قادیان نے محترمہ بی بی ناصرہ بیگم ( بنت حضرت مصلح موعود ) کی شادی خانہ آبادی کی تقریب سعید کے موقع پر تحفہ دیا تھا۔کیا یہ کتابیں رڈی میں جانے کے قابل تھیں؟ میں کیسے گوارا کر سکتا تھا کہ اُن سے ہاتھ کھینچ لوں کہ قیمت زیادہ ہے اور وہ رڈی میں بیچ دیتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق بھی دی کہ یہ کتب مکرم سیٹھ محمد اعظم صاحب کے ہاتھ عزیزہ محترمہ کو بھجوا دیں۔تسلی بھی کر لی تھی کہ حفاظت سے کتب اُن تک پہنچ گئی ہیں جو میری طمانیت کا باعث ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط والی کتا ہیں : کتب خریدنے کے شوق میں مجھے ایک ایسی کتاب ملی جس پر حضرت اقدس مسیح موعود کے دستخط ثبت تھے۔اپنے قلم سے اپنا نام لکھا ہوا تھا۔بس پھر کیا تھا ایسی کتب کی تلاش 171