زندہ درخت — Page 172
زنده درخت شروع کر دی بلکہ ایسی کتب کا عشق سر پر سوار ہو گیا۔قادیان کے سارے بک ڈپو اور درویشوں کی کتابیں دیکھ ڈالیں۔جہاں دستخطوں والی کتاب ملی منہ مانگی قیمت دے کر خرید لی۔اس سے مجھے بہت سکون ملتا کافی سرگرمی سے آخر مجھے آٹھ کتب ایسی مل گئیں جن پر حضرت اقدس کے دست مبارک سے دستخط موجود تھے۔میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو دکھا ئیں وہ بھی بہت خوش ہوئے۔یہ ایک قیمتی دولت تھی جو میں نے اپنے آٹھ بچوں کو ایک ایک تقسیم کر دی۔اللہ تعالیٰ اس کی برکتیں نسلاً بعد نسل میرے خاندان کو عطا فرماتا رہے۔1826ء کی شائع شدہ انجیل : میں ایک دفعہ لدھیانہ گیا۔لدھیانہ میں ایک لائبریری تھی جس میں میونسپل کمشنر پادری ویری کی کتب تھیں وہ دین حق اور احمدیت کا شدید دشمن تھا۔غیروں نے کتب کو تلف کرنے کے لئے فروخت کر دیا جو سینکڑوں من وزنی تھیں میں نے قریباً دو بوری کتابیں چھانٹ لیں۔ان میں سے دو کتب کا ذکر کرتا ہوں ایک تو انجیل تھی جو 1826ء کی شائع شدہ تھی ایک اہل حدیث کا وہ پر چہ تھا اصل والا جو علماء اکثر ہمارے خلاف پیش کیا کرتے ہیں۔میں نے قادیان آکر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے نام تحریر کیا کہ جماعت کے کام آنے والا لٹریچر لدھیانہ میں فروخت ہو رہا ہے۔مثال کے طور پر اسی انجیل کا حوالہ دیا۔آپ کا جواب آیا کہ اگر اتنی پرانی انجیل ہے تو میرے لئے بھی خرید لیں۔میں نے اس خط کو نعمت غیر مترقبہ خیال کیا اور بذریعہ رجسٹرڈ پارسل کتاب بھجوا دی۔آپ کا دعاؤں اور شکریہ کا خط ملاجس پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر کیا۔172