زندہ درخت — Page 149
زنده درخت فرسٹ ڈویژن بھی ملی اور اردو میں فرسٹ پوزیشن بھی۔بچی کا ذوق و شوق دیکھ کر میں نے دل میں سوچا میں درویش آدمی ہوں بچی کو جہیز وغیرہ کی دولت کیا دے سکوں گا تعلیم کی دولت سے کیوں محروم رکھوں؟ بچی کو کہا تیار ہو جاؤ صبح لا ہور چلیں گے داخلے کے لئے لاہور پہنچے تو یہ جان کر تکلیف ہوئی کہ داخلے مکمل ہو چکے تھے۔پھر بھی ہم صبح پر نسپل ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب کے کمرے میں گئے تو یہی جواب ملا کہ داخلے ہو چکے ہیں اب کوئی سیٹ نہیں۔اتنے میں ہیڈ کلرک صاحب نے آکر بتایا کہ یہ محترم شیخ محبوب عالم خالد صاحب کا خط لائے ہیں کہ اس بچی نے یو نیورسٹی میں اپنے مضمون میں سب سے زیادہ نمبر لئے ہیں۔پرنسپل صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ اس بچی کو داخلہ ضرور ملے گا جس نے اتنے اچھے نمبر حاصل کئے ہیں۔پرنسپل صاحب نے کلرک کو بلوایا اور کہا کا غذات داخلے کے دکھائیں۔کلرک نے اُن کو بتایا کہ لیٹ فیس جمع کروانی ہوگی۔میں چونکہ انہیں پاسپورٹ اور اندراج ضلعی دفتر کی بات بتا چکا تھا۔اُنہوں نے اپنی نگرانی میں سب کام کروایا اور دستخط کئے تو وہ تاریخ ڈال دی جو داخلے کی آخری تاریخ تھی اس طرح لیٹ فیس کا قضیہ بھی چک گیا۔داخلہ کروا کے سیدھا جھنگ گیا۔بارڈر کے کلرک نے چونکہ آگے کی تاریخ ڈالی ہوئی تھی کوئی مسئلہ نہ ہوا۔دل حمد وشکر کے ترانے گانے لگا۔کس طرح ایک ایک قدم پر اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شامل رہی۔اگر ہر بال ہو جائے سخنور تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر ایک دفعہ ربوہ پہنچا تو عزیز باسط جو جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا شدید بیمار تھا۔سب گھرانے والے سراسیمگی کے عالم میں تھے۔میں ہسپتال گیا۔حضرت مرزا منور احمد صاحب نے جو دو لکھ کر دی تھی وہ مہنگی تھی۔میری سادہ حالت دیکھ کر ڈیوٹی پر موجود صاحب پرے پرے کرنے لگے میں بے بسی سے ایک طرف کھڑا ہو گیا۔سخت فکرمندی کی حالت تھی اتنے میں میاں لال دین صاحب سنار کہیں سے آنکلے اور آ کر گر مجوشی سے ملے اور پوچھنے لگے آپ 149