زندہ درخت

by Other Authors

Page 150 of 368

زندہ درخت — Page 150

زنده درخت قادیان سے کب آئے۔تب وہی۔۔۔۔۔۔صاحب سر اٹھا کر مجھے دیکھنے لگے اور پھر سر جھکا لیا یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے ایک درویش سے بے اعتنائی پر اُن کو اس قدر پشیمانی ہوئی ہے گویا کسی نے اُن کا سارا خون نچوڑ لیا ہو۔میرے ہاتھ سے پر چی لی اور کہا بارہ بجنے والے ہیں میں آپ کے ساتھ آپ کے بچے کو دیکھنے آپ کے گھر جاؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے میری پریشانی ، مسافرت اور ذرائع آمد مفقود ہونے پر رحم کھایا۔ڈاکٹر صاحب نے توجہ سے دیکھا اور ایک خون ٹیسٹ لکھ کر دیا اور کہا جب صبح ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب آئیں گے تو مشورہ کر کے علاج شروع کیا جائے گا۔میں نے عاجزی سے عرض کی کہ بچے کی حالت خراب ہے آپ دیر نہ کریں نسخہ تحریر کر دیں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا بیماری شدید ہے اس کی دوا خرید نہ سکیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ ٹائیفائڈ ہے اس کی دوا بہت مہنگی ہوتی ہے۔آپ میں طاقت نہیں۔میں نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ آپ دوا تحریر تو کریں۔کل کس نے دیکھا ہے بچے کی حالت ٹھیک نہیں۔دوا لکھ کر دی اور بتایا کہ یہ پندرہ روپے کی آئے گی وہ بھی چنیوٹ سے۔ہاں ہو سکتا ہے ہسپتال کے ایک کارکن کے پاس ہو آپ۔۔۔۔۔صاحب سے پتہ کر لیں۔اُس مہربان نے دو خوراکیں دے دیں میں نے وعدہ کیا کہ ان کی قیمت یا چار کیپسول میں کل تک آپ کو واپس کر دوں گا۔اللہ کے حضور بے بسی سے دعا کر کے دوا شروع کروائی گھر میں صرف دس روپے تھے وہ لئے ، ایک بچی نے لرزتی ہوئی آواز سے کہا ابا جی دوروپے میرے پاس ہیں وہ بھی لے لیس کل بارہ روپے لے کر چنیوٹ گیا۔دوا دکان میں تھی مگر چودہ روپے کی تھی۔میں نے عرض کیا کہ دوروپے کل دے دوں گا مگر کیمسٹ ایک اجنبی کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھا۔اب دیکھئے اس مایوسی میں خدا تعالیٰ کیسے مدد کرتا ہے۔محترم صوفی غلام محمد صاحب ( ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب کے بڑے بھائی) ادھر سے گزر رہے تھے مجھے دیکھا تو پوچھا بھائی جی آپ یہاں کہاں؟ محترم صوفی صاحب بہت ملنسار، نیک بخت اور دیندار انسان ہیں بے تکلفی سے باتیں کرنے لگے میں نے اپنا مسئلہ بتایا کہ دوروپے کی ضمانت کی ضرورت ہے۔کیمسٹ ہمیں دیکھ رہا تھا فوراً کہنے لگا۔نہیں اب آپ دوالے جائیں 150