زندہ درخت

by Other Authors

Page 140 of 368

زندہ درخت — Page 140

زنده درخت لطف اندوز ہوتے۔ایک دن ہم دونوں میاں بیوی نماز جمعہ کے لئے بیت میں موجود تھے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا اصحاب مسیح دیکھنے کو بھی نہ ملیں گے ایک ایک کر کے جدا ہوتے جارہے ہیں۔ان کی صحبت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔میں نے اس ارشاد سے بہت لطف لیا۔جمعہ کے بعد میں دکان پر چلا گیا جب شام کو گھر واپس آیا تو میری بیوی بڑے اہتمام سے میرا انتظار کر رہی تھی جیسے کوئی مرتی ایک عرصہ تک دعوت الی اللہ کر کے واپس آرہا ہو اُس کی ایک ادا یہ تھی کہ موتیے کے پھولوں کے ہار خرید لیتی اور میری چار پائی کے پائیوں پر لٹکا دیتی اُس کے چہرے پر حیا اور مسرت کی ملی جلی کیفیت تھی۔میں نے پوچھا کیا بات ہے کس بات کی خوشی ہے؟ کہنے لگی آپ کے گھر آنے کی کم خوشی ہونی چاہیے؟ میں نے کہا کہ کیا میں امریکہ سے جماعتی فرائض سے واپس آیا ہوں؟ کہنے لگی ایسا ہی لگتا ہے۔پھر کھانا پیش کیا اور ساتھ ساتھ اپنی خوشی کا راز بھی بتایا کہ آج کے خطبہ سے میں بے حد خوش ہوئی کہ آپ نے ہمارے لئے پہلے سے رفقائے حضرت مسیح موعود سے ملنے کا انتظام کر رکھا ہے۔میں نے بتایا کہ میں بھی خطبہ سن کر بہت خوش ہور ہا تھا۔یہ تھیں ہماری خوشیاں ! کہ خلیفہ اسیح کے ارشاد سے پہلے تعمیل ارشاد کی تو فیق مل رہی تھی۔iv۔حضرت ٹھیکیدار اللہ یار صاحب: ایک دفعہ ہم نے حضرت ٹھیکیدار اللہ یار صاحب کی دعوت کی۔وہ ہمارے رشتہ دار بھی تھے آپ پہلے مکیریاں میں ٹھیکیداری کیا کرتے تھے۔لکڑی کا ٹال بھی میں نے دیکھا تھا۔پھر قادیان آگئے ابتدائی زندگی اپنے والدین کے ساتھ ایک گاؤں میں گزاری۔پھر بٹالہ میں کام کیا کرتے تھے۔آپ تین بھائی تھے حضرت محمد اکبر جو حضرت مسیح موعود کے دوست اور مخلص مرید تھے ان سے چھوٹے حضرت محمد بخش صاحب (والد مکرم محمد حسین صاحب مربی سلسلہ احمدیہ ) اور تیسرے حضرت ٹھیکیدار اللہ یار صاحب۔حضرت محمد بخش صاحب میرے محسن تھے ابتدائی تعلیم قادیان میں ایک عرصہ تک آپ 140