زندہ درخت

by Other Authors

Page 141 of 368

زندہ درخت — Page 141

زنده درخت کے گھر پر رہ کر حاصل کی۔آپ اچھی اچھی اسلامی کہانیاں سنایا کرتے اور دلنشیں نصیحتیں فرماتے۔تربیت کے لئے چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھتے کھانے کو بایاں ہاتھ بالکل نہ لگاتے۔نماز باجماعت ادا کرتے اور کرواتے میرے بڑے بھائی حضرت مولوی عبدالغفور صاحب بھی ان کے گھر برائے تعلیم رہا کرتے تھے۔کہانی کہانی میں بات سمجھانے کی ایک مثال دیتا ہوں۔یہ اُن کی سنائی ہوئی ایک کہانی ہے۔ایک بادشاہ کی سات لڑکیاں تھیں۔بادشاہ نے سب لڑکیوں سے پوچھا کہ آپ کی ہر قسم کی پرورش کا کون ذمہ دار ہے؟ چھ لڑکیوں نے کہا آپ ہماری پرورش کے ذمہ دار ہیں مگر ساتویں نے کہا اللہ کارساز ہے۔بادشاہ ناراض ہوا اور اُسے جنگل بیابان میں پھینکواد یا اُدھر سے کسی فقیر کا گزر ہوا تو تنہا بچی کو دیکھ کر اُس کے پاس آیا بچی کی داستان سُن کر اُس کو اپنی بیٹی بنالیا۔اب اُسے فکر ہوئی کہ یہاں بچی سوئے گی کہاں؟ یہ تو جنگل ہے ایسا کرتا ہوں کہ ایک نہ خانہ بناتا ہوں اور اُس میں بچی کا کمرہ بناتا ہوں۔مگر گھدائی کا سامان کہاں تھا ؟ بچی نے سر پر ہاتھ پھیرا تو بال بال پروئے ہوئے موتیوں میں سے ایک باقی رہ گیا تھا اُس نے وہ موتی فقیر کو دیا کہ بیچ کر کھدائی کا سامان اور کھانے پینے کو کچھ لے آئے۔فقیر نے زمین کھودنی شروع کی تو اُس میں سے بہت بڑا خزانہ نکلا۔بادشاہ کی بیٹی نے بہت بڑا منصوبہ بنایا بہت سے مکان بنوائے گویا کہ نیا شہر بنوالیا۔پھر اس میں اپنے والد ، بہنوں، وزیروں اور سب شہزادوں کو دعوت دی۔ایک ہفتے تک سب کو خوب سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھانا کھلایا اور کہا کہ بے شک جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں ساتویں دن وہ اپنے اُسی لباس میں بادشاہ کے سامنے آئی جس میں اُسے جنگل میں پھنکوا دیا گیا تھا۔بادشاہ حیران اور نادم ہوا۔وہ سمجھا تھا جنگلی درندے کھا گئے ہوں گے۔مگر بیٹی نے سمجھایا کہ دیکھیں میں نے کہا تھا کہ رب میرا رزق ہے اُس نے مجھے یہ سارا کچھ غیب سے دے دیا۔اب یہ سلطنت بھی آپ سنبھالیں اور خدا کو اپنا پروردگار مانیں۔141