زندہ درخت

by Other Authors

Page 139 of 368

زندہ درخت — Page 139

زنده درخت سے ہی پوچھا کہ کہاں جانا پسند کرو گے جوگندر نگر جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے یا دریائے بیاس پر۔فیصلہ یہ ہوا کہ دریائے بیاس کے کنارے پکنک کی جائے۔جمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے گھر سے پراٹھے وغیرہ پکوالئے ہمارے پاس صرف دوسائیکل تھے ان پر کھانا رکھ لیا۔کوئی بچہ تھک جاتا تو اُسے سائیکل پر بیٹھا لیتے۔مغرب سے قبل ایک جگہ رک کر کھانا کھایا پھر عشاء کے بعد ایک مکان میں رک کر پلاؤ پکا کر کھا یا۔ایک بدمزگی ہوئی ایک بچے کو بچھو کاٹ گیا۔بہر حال باجماعت نماز پڑھی اور بچے آپس میں خوشی خوشی کھیلتے کھیلتے سو گئے۔صبح ہوئی دریا ایک میل کے فاصلے پر نظر آ رہا تھا تین دن وہاں ہنسی خوشی بچوں کے ساتھ گزارے مل جل کر کھانے پکائے باجماعت نمازیں پڑھیں خیر سے گھر آئے الحمدللہ اب جب درویشی میں خود اپنے بچوں سے جدا ہوں یہ بات یاد کر کے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ہنستے مسکراتے بچوں کے چہرے آنکھوں کے آگے آجاتے ہیں ایک دفعہ بچوں کو نہر کے کنارے خربوزوں کی دعوت دی۔اکثر گڑ والے چاولوں کی دیگ پکوا کر دے آتا تھا۔ایک دفعہ ایک لطیفہ بھی ہوا گھر میں ایک عزیزہ کی شادی پر کھانا پکوا یا دعوت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھی مدعو تھے۔کھانا وقت پر نہ پہنچا۔حضور کو میرے انتظام کے متعلق حُسنِ ظن بھی تھا آپ نے پوچھا عبدالرحیم کہاں ہے میں نے عرض کیا کہ حضور لنگر خانے سے کھانا پکوایا تھا پتہ کرتا ہوں دیر کیوں ہو گئی۔لنگر خانے گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سمجھے تھے کہ حسب سابق دار الشیوخ کے لڑکوں کے لئے کھانا پکوایا ہے وہاں بھجوادیا گیا تھا۔iii- ارشاد سے پہلے تعمیل ارشاد: ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود کے رفقاء کرام ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہورہے ہیں کیوں نہ ایسا پروگرام بناؤں کہ ہفتے دس دن بعد کسی ایک رفیق کو گھر پہ دعوت دوں تا کہ بیوی بچے پاکیزہ کلام، سیرت و سوانح ، ذکر حبیب سُن کر اپنے ایمان کو تازہ کریں۔چنانچہ اس پر عمل شروع ہوا گھر کے افراد اُن کے اردگرد بیٹھ جاتے مل کر کھانا کھاتے اور باتیں سن کر 139