زندہ درخت — Page 93
زنده درخت ہے تو میں اپنا سامان سمیٹنے لگتا ہوں۔مجھے موسم کا اندازہ ہو جاتا ہے۔کہ اب بارش ہوگی۔تو کیا میں اتنا نہیں سمجھ سکتا کہ زمانے کی ہوا گندی ہوگئی ہے مسلمان صرف نام کے رہ گئے ہیں نماز تک کی ہوش نہیں۔مجھے نماز پڑھنے کے لئے گاؤں سے نصف میل دور ایک جو ہڑ کے کنارے اینٹوں کی چھوٹی سی بیت میں جانا پڑتا ہے۔جو خود میں نے بنائی ہے۔اُس میں اکیلا ہی نماز پڑھتا ہوں۔اس حالت کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ یہی وقت مہدی کی آمد کا ہے۔“ میں دل میں خوش ہوا کہ اب مناسب موقع پر بتا دوں گا مگر اس بات کے جلدی بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔حضرت ابا جان نے حضرت اقدس مسیح موعود کو اپنے والد صاحب کے انتقال کی خبر دی۔حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ میاں فضل محمد کیا انہوں نے ہمارا پیغام سنا تھا؟ ایمان لائے تھے؟ ابا جان نے ساری تفصیل بتا دی۔حضرت اقدس نے فرمایا: وہ احمدی تھے انہوں نے ہمیں مانا تھا۔آؤ ہم اُن کی نماز جنازہ پڑھیں۔“ حضرت اقدس کی امامت میں اُس وقت موجود اصحاب کرام نے میرے دادا کی نماز جنازہ پڑھی۔بغیر بیعت کے ایمان لانے والوں میں شمار ہونے کی تصدیق خود حضرت مسیح موعود نے فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال کے بعد آپ کا چہرہ دیکھنا یاد ہے: لگتا تھا بہت بڑا واقعہ ہوا ہے۔بہت لوگ جمع تھے قطار در قطار لوگ کھڑے تھے۔میرے والد صاحب نے مجھے گود میں لے کر سر سے اونچا کر کے فرمایا تھا کہ یہ مقدس چہرہ دیکھ لو مجھے یاد ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا تھا۔93