زندہ درخت

by Other Authors

Page 94 of 368

زندہ درخت — Page 94

زنده درخت -17 میرا بچپن اور تعلیم میں نے دوسری تیسری اور چوتھی کلاس تلونڈی جھنگلاں کے ایک اسکول سے پاس کی۔یہ اسکول جماعت احمدیہ نے کھولا تھا اس میں غیر از جماعت بچے بھی پڑھتے تھے۔ہمارے اسکول ماسٹر محترم منشی عطا محمد صاحب تھے۔( جواب جامعہ احمدیہ میں پروفیسر ہیں غیر ملکی طلباء کو اردو پڑھاتے ہیں۔میرے بہنوئی ہیں) ماسٹر صاحب کو بھینس رکھنے کا شوق تھا میرے ذمہ اس کو چرانا اور گھاس وغیرہ ڈالنا تھا۔اس طرح کھیل کو د اور ورزش کا موقع مل جاتا مجھے جمناسٹک سے بہت دلچسپی تھی بھینس کی دیکھ بھال کا وقت میں ورزشی کھیلوں میں گزارتا اور اتنا ماہر ہو گیا تھا کہ تعلیم الاسلام اسکول میں ورزش کے ماسٹر کی ملازمت کی پیش کش ہوئی جو میں نے اس وجہ سے قبول نہ کی کہ والد صاحب نے تجارت کا شوق پیدا کر دیا تھا۔میرا بھی ادھر ہی رحجان تھا۔ملازمت کرنا پسند نہ تھا۔میں چوتھی پانچویں میں تھا جب مجھے وظیفے کے امتحان کے قابل سمجھا گیا۔اس امتحان کے لئے بٹالہ جانا تھا۔محترم ماسٹر منشی عطا محمد صاحب خاکسار سمیت دولڑکوں کو بٹالہ لے گئے۔ہم اپنے ایک رشتہ دار محترم محمد اکبر صاحب کے گھر ٹھہرے۔ہمارے ایک ممتحن بھی جو ہمارے میزبان کے دوست تھے وہیں ٹھہرے۔رات کو انہوں نے ہم دونوں لڑکوں کی تیاری کروائی اور بہت سے سوال پوچھے وہ مجھ سے اتنے خوش ہوئے کہ کہا کہ ”اگر یہ لڑکا عبد الرحیم کسی وجہ سے امتحان نہ دے سکا تو میں ذمے دار ہوں اپنی تنخواہ سے چار روپے ماہوار اس کو وظیفہ دیا کروں گا۔“ ہمارے ماسٹر صاحب کو حقہ پینے کی عادت تھی۔ہمیں تمباکو خرید کر لانے کو کہا۔ہم دیہات کے رہنے والے بٹالہ شہر کے راستوں سے واقف نہ تھے۔واپسی پر رستہ بھول گئے اور بالکل دوسرے حصے کی طرف نکل گئے۔چھوٹی عمر اجنبی شہر اور ماسٹر صاحب کی مار کے 94