زندہ درخت — Page 39
زنده درخت سے ایک پھل میرے پیارے ابا جان بھی تھے جن کا اسم گرامی تھا حضرت میاں فضل محمد صاحب ہرسیاں والے۔( آپ کے والد صاحب کا نام سندھی بخش اور دادا کا نام دیدار بخش تھا۔آپ چار بھائی تھے غلام محمد محمد عبد اللہ، غلام قادر اور فضل محمد ) ایک متوسط سے گھرانے سے تعلق تھا۔بہت مال و دولت والے نہ تھے۔معمولی سے گاؤں میں رہتے تھے۔دیال گڑھ کے سکول سے پرائمری پاس کی اس کے بعد بٹالہ کے ہائی سکول میں دو سال تعلیم حاصل کی اُس وقت عام چر چا تھا کہ چودھویں صدی میں امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ہر مسجد میں خطبات میں یہی ذکر ہوتا۔خیال آیا کہ مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو قرآن حدیث پڑھائیں گے انگریزی پڑھنے کی کیا ضروت ہے دنیاوی تعلیم چھوڑ دی تاہم دل پاکیزہ تھا جس سے مسیح وقت کی شناخت کی سعادت حاصل ہوئی آپ کے صفائے قلب کو اللہ تعالیٰ نے عرش معلی سے دیکھا اور لا کر اپنے مسیح زماں کے مقدس و مبارک قدموں میں ڈال دیا۔پھر خدا داد فراست اور ذہانت سے اردو اور فارسی میں کافی مقام پیدا کر لیا۔فنِ طبابت سے ذہنی رجحان کی وجہ سے مہارت حاصل کی اور دستِ شفاء کی وجہ سے دور ونزدیک شہرت حاصل کی جو نہ صرف عزت اور ہر دلعزیزی کا موجب ہوئی بلکہ احمدیت کے لئے بھی کافی کارآمد ثابت ہوئی۔حصول تعلیم کے بعد آپ نے ذریعہ معاش تجارت کو بنا یا تجارت میں امانت دیانت کا پہلو غالب رہا۔آپ کی شادی ہر سیاں کے پاس ہی ایک گاؤں دیال گڑھ میں ہوئی ہماری والدہ محترمہ کا نام محترمہ برکت بی بی تھا۔اللہ تعالیٰ بھی عجیب در عجیب حکمتوں کا مالک ہے۔ابا جان کے نام میں فضل اور اماں کے نام میں برکت دونوں کو جمع کر دیا۔فضل اور برکت لازم و ملزوم ہیں دونوں کو جمع کر کے احمدیت میں لے آیا اور ان وجودوں کے توسط سے نسلوں میں فضل و برکت کی نہریں جاری کر دیں۔سبحان اللہ۔39