زندہ درخت — Page 40
ترام کا انداز : زنده درخت 1954ء کی بات ہے میں چھٹی پر وطن آیا ہوا تھا ابا جان میرے ہاں ہی قیام فرما تھے۔گرمیوں کے دن کچا کوارٹر گھاس پھونس کے چھپر کے نیچے آرام فرمارہے تھے کہ کسی نے باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا میں گیا دروازہ کھولا تو دیکھا حضرت مسیح پاک کے جانثار جناب بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور ایک بزرگ جناب بابا فضل دین صاحب تشریف لائے ہیں فرمایا ہم میاں جی کو ملنے آئے ہیں۔اللہ اکبر۔کون سا احمدی ہے جو بھائی جی کے نام اور مقام سے واقف نہیں۔شمع احمدیت کے اس پروانے کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مقام سلسلہ عالیہ احمدیہ میں عطا فرمایا ہے۔رفیق مسیح موعود کے دیدار کو آنے والے دونوں احباب گھر سے باہر ہی جو تے اُتار دیتے ہیں۔یہ محض اس لئے کہ میچ پاک کے ایک حواری کو اللہ تعالیٰ کا ایک شعار قرار دے کر تکریم مقصود تھی ربوہ کی مٹی دھول کی پرواہ کئے بغیر باہر سے ننگے پاؤں چل کر آئے اور خوشی کا یہ عالم کہ آنکھوں میں آنسو تھے جتنی دیر بیٹھے ایمان افروز واقعات درد بھرے انداز میں سناتے رہے۔میں اس خوش نصیبی پر جس قدر فخر کروں کم ہے کہ مجھے بھائی جی جیسے جلیل القدر رفیق مسیح موعود کے جوتے اٹھانے کا فخر حاصل ہوا۔رت مصلح موعود کے دیدار کی خاطر : آخری عمر میں والد صاحب بہت کمزور ہو گئے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا نظر پر بھی اثر ہوا تو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر روح کی پیاس بجھانا مشکل ہو گیا۔آپ وفور شوق میں اس طرح کرتے کہ کسی ایسے راستے پر جا کر بیٹھ جاتے جہاں سے حضرت مصلح موعود کا گزرنا متوقع ہوتا تاکہ زیارت ہو جائے۔اگر کوئی عزیز حضور کو بتا دیتا کہ میاں جی زیارت کے لئے آئے ہیں تو دل کے حلیم حضور از راہ غلام نوازی خود ابا جان کے پاس آ جاتے اور دیدار کی پیاسی روح کو سیراب کرتے۔40