زندہ درخت — Page 338
زنده درخت نماز عشاء کے بعد چند آریہ اجازت لے کر اندر آئے۔اور سامنے بیٹھ کر کہا کہ ہماری عرض غور سے سنیں ہم بہت سفر کر کے پیسے خرچ کر کے قادیان آئے ہیں۔ہمیں جلسہ کا شوق نہیں نہ ہمیں کوئی مباحثہ کرنا ہے نہ کوئی سوالوں کے جواب کی ضرورت ہے۔ہم تو صرف یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ آپ ایک دفعہ ہمارے مکان میں تشریف لے آئیں۔چند منٹ کرسی پر بیٹھ کے اپنا دیدار کروا دیں بس یہی مہربانی ہوگی۔حضرت اقدس صاحب فراست تھے دھو کے بازی کی بات کو فورا سمجھ گئے۔آپ نے صاف انکار کر دیا کہ میں آپ کی مجلس میں نہیں جاسکتا۔اس میں فساد کا ڈر ہے۔انہوں نے کہا ہم تو شریف لوگ ہیں کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔جاہل لوگ فساد کرتے ہیں۔جاہل فسادی سکھ ہیں یا مسلمان ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا اب تم خود اپنی بات کو سوچو۔ہمارے سامنے مسلمانوں کو جاہل اور فسادی کہہ رہے ہو۔یہی تمہاری شرافت کا ثبوت ہے جو ظاہر ہو گیا ہے۔دیکھو یہ سینکڑوں (احمدی) بیٹھے ہیں۔میرے فرمان کو ماننے والے ہیں اگر ہم آپ کی بات سن کر خاموش رہیں تو جاہل فسادی ہیں۔اگر کسی کو جوش آجائے تو جھگڑا ہو۔نام ہمارا لگے بہتر ہے اپنے اپنے گھر میں رہیں۔آریہ یہ معقول باتیں سن کر حیران رہ گئے۔جس پر رب مہربان ہو اس کا نقصان کون کر سکتا ہے۔پھر آپ نے یعقوب علی صاحب کو بلا کر کتاب رات رات چھپوانے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے حسب حکم کتاب چھپوا کر صبح چند نسخے آپ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔صبح فجر کی نماز کے بعد آپ حسب معمول بسر اواں کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔سینکڑوں خادم ساتھ تھے لگتا تھا اللہ تعالیٰ کا نور برس رہا ہے۔ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ حکمت رب غفور سے آپ نے واپسی کا رُخ کیا رستے میں ذرا ہٹ کر ایک خشک ڈھاب تھی اُس میں سینکڑوں آریہ چھپے بیٹھے تھے۔جب حضرت اقدس قریب پہنچے تو انہوں نے دوڑ کر باہر آ کر آپ کو گھیر لیا ہاتھ باندھ کے عاجزی سے درخواست کی کہ یہاں کچھ ٹھہر جائیں ہم دل بھر کے آپ کا دیدار کرلیں۔338