زندہ درخت — Page 337
زنده درخت ت ادیان میں آریوں کا جلہ : ایک دن کسی نے ذکر کیا کہ آج قادیان میں آریوں کا جلسہ ہے۔ہم نے سوچا چل کر دیکھتے ہیں میرے ساتھ منشی جھنڈے خان صاحب اور دین محمد حکیم صاحب تھے ابھی قادیان پہنچنے میں ایک میل رستہ باقی تھا کہ سامنے سے کچھ لوگ آتے ہوئے دیکھے وہ آپس میں حضرت مرزا صاحب کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔اتنی دلخراش کہ سُنی نہ جائیں وہ آریہ تھے اونچی اونچی کہہ رہے تھے کہ مرزا کے پاس سچ ہوتا تو مقابل آتا آج آریوں نے مرزا کا چراغ گل کر دیا ہے۔وہ میدان سے بھاگ گیا۔ہم انہیں خوشی سے باغ باغ دیکھ کر سخت افسردہ ہو گئے۔اس قدر بُرا حال ہوا کہ آگے چلنے کی سکت نہ رہی۔ہم نہایت غمگین حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ خوش باش تھے ہم نے دل میں سوچا کہ حضرت تو ٹھیک ٹھاک ہیں پھر آریوں کا مقابلہ کیوں نہ کیا، حضرت کے آگے آریوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔ہر بات میں لاجواب ہو جاتے ہیں۔آریہ سوال کرتے ہیں تو اُن کے سوال ہی سے جواب کے آسان انداز نکال لیتے ہیں۔جس کے ہاتھ میں تیغ بُڑان ہو، دلائل قاطع ہوں ، ماہر شکاری اللہ کا پہلوان ہو وہ کیسے اور کیوں ڈر گیا؟ میرا دل بہت پریشان تھا۔یہ بات مرسلین الہی کے شایان نہیں دوسرے احمدی بھی کہہ رہے تھے اب ہم آریوں کو کیا منہ دکھا ئیں گے۔شام کو مسجد مبارک میں نماز کے بعد حضرت اپنے اصحاب میں تشریف فرما ہوئے آپ نے فرمایا آج میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام نسیم دعوت ہے۔یہاں مولوی عبد الکریم بھی ہیں۔یہ بتائیں گے کہ اس کتاب میں جو مضمون میں نے بیان کیا ہے وہ آپ نے کبھی نہ پڑھا ہوگا بلکہ خیال وخواب میں بھی نہ ہوگا۔پھر فرمایا یہاں مولوی نورالدین صاحب بھی ہیں۔انہوں نے بھی اس کتاب کا مضمون کبھی پڑھا، لکھا، سوچا نہ ہو گا۔پھر فرمایا یہاں نواب محمد علی صاحب بھی ہیں آپ بھی سمجھ لیں کہ اس کتاب میں سارا مسئلہ واضح کر دیا ہے۔ایک چوتھے شخص کا نام میں بھول گیا ہوں۔337