زندہ درخت

by Other Authors

Page 339 of 368

زندہ درخت — Page 339

زنده درخت حضرت اقدس نے فرمایا ٹھہرنے کی کیا ضرورت ہے، دیدار ہی چاہیے تھا سو ہو گیا۔پھر شیخ یعقوب علی صاحب کو فرمایا کہ جونئی کتاب چھپی ہے ان کو دکھا ئیں تم لوگ کہتے ہو کہ مرزا صاحب اپنی کتابوں میں گالیاں دیتے ہیں۔باقی کتابیں تو سامنے نہیں اس وقت یہ کتاب حاضر ہے اس میں دکھاؤ کہاں گالیاں ہیں۔یہ باتیں حضور نے چلتے چلتے کیں۔آریہ بھی ساتھ ساتھ چلتے رہے اور ایک دفعہ پھر اصرار کیا کہ ہمارے مکان میں چلیں کرسی کے اوپر بیٹھ کے دیدار کا موقع دیں۔حضرت اقدس نے فرمایا ابھی آپ کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔میں فساد والی جگہ پر کیوں جاؤں اُن کے مزید اصرار پر آپ نے ایک مثال دی۔کہ اگر عیسائیوں سے کہا جائے کہ بشری تقاضوں سے بول براز کرنے والا خدا کیسے ہوسکتا ہے۔وہ اس بات پر جوش میں آجاتے ہیں۔بہتر ہے ہم خموش ہی رہیں۔آپ لوگوں کی سب باتوں کا جواب ”سیم دعوت میں ہے۔یہ سب باتیں چلتے چلتے ہوئیں۔مجھے بھی اس کتاب کو دیکھنے کا بے حد شوق ہوا۔عشاء کی نماز میں آپ نے بے حد تعریف فرمائی تھی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضرت اقدس نے خود مجھے کتاب عنایت فرمائی۔جو میں نے رستے میں ہی پڑھ لی اس میں ملکہ بلقیس کا ذکر تھا جو سورج کی پوجا کرتی تھی۔حضرت سلیمان نے پانی پر شیشہ لگا کر جواب دیا۔دوسرے مفسروں نے اس نکتے کو نہیں پایا۔جو تفسیر مرزا صاحب نے کی وہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ایک عجیب بات: گجو غازی میں مجھے کچھ کام تھا میرے عزیز رشتے دار بھی تھے وہاں گیا تو گاؤں میں کوئی بیت نہیں تھی۔گاؤں کے باہر ایک تکیہ دار کا نام روڑے شاہ تھا میں وہاں نماز ظہر پڑھ کر فارغ ہوا تو روڑے شاہ نے گفتگو شروع کر دی۔موضوع حضرت مرزا صاحب تھے۔اتنے میں دو سکھ بھی وہاں آگئے۔روڑے شاہ انہیں دیکھ کر خاموش ہو گیا۔مجھے وہ سکھ قابل اور خوش لباس 339