زندہ درخت — Page 283
زنده درخت کہ سید نا ابا جان کو معلوم ہو گیا تو آپ کو اس بات کی سخت تکلیف ہوگی کیونکہ میں جانتی تھی کہ سید نا ابا جان کو قرض لینا برداشت ہی نہیں اور قرض لینے سے سخت نفرت تھی۔تو میں نے رورو کرنماز میں دعائیں شروع کر دیں اور بہت پریشان رہنے لگی۔آپا جان سیدہ ام طاہر صاحبہ مجھے پریشان دیکھتیں اور نماز میں رو رو کر دعائیں کرتے دیکھ کر پریشان ہو جاتیں اور مجھ سے پوچھتیں کہ کیا تکلیف ہے مجھے بتاؤ لیکن مجھ پر اتنا خوف طاری تھا کہ میں اُن کو کبھی نہ بتاتی صرف اس لئے کہ اُن کو بھی بہت تکلیف ہوگی اس بات سے کہ اس نے اس لڑکی کو قرض کیوں دلوایا اور یہ ذمہ داری کیوں لی۔اور پھر وہ لڑکی جس نے بطور قرض کے پیسہ دیا تھا وہ مجھ سے کہنے لگی کہ اب تو میں ایک پیسہ نہیں لوں گی بلکہ چار آنے لوں گی اگر چار آنے نہیں دو گی تو میں حضور کو شکایت کر دوں گی۔پھر تو کچھ نہ پوچھئے کہ میں نے کس طرح رو رو کر بلک بلک کر دعائیں کیں کہ یا اللہ تو میری مدد کر ایک دن میں سکول جانے کے لئے اپنے کمرہ میں تیار ہو رہی تھی کہ بھائی عبدالرحیم صاحب درویش کی بیگم صاحبہ میرے کمرہ میں آئیں اور مجھے ایک چوٹی دینے لگیں میں نے انکار کیا کہ سیدنا ابا جان نے ہمیں کسی سے بھی کوئی بھی چیز لینے سے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔اس پر وہ کہنے لگیں یہ میں نہیں دے رہی آپ کی امی نے آپ کو بھیجی ہے میں نے حیران ہو کر اُن کی طرف دیکھا اور کہا میری امّی نے؟ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟؟ اس پر انہوں نے مجھے بتایا کہ آج رات میں نے خواب دیکھا کہ آپ کی امی بی بی امتہ الحئی میرے پاس آئیں اور مجھے ایک چونی دے کر کہنے لگیں کہ یہ میری بیٹی امتہ الرشید کو دے دینا وہ بہت پریشان ہے۔میں نے وہ چونی لے کر اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لی اور میری آنکھ کھل گئی مجھے یقین تھا سچ سچ وہ چونی مجھے دے گئی ہیں۔میں نے تکیہ دیکھا اپنا بستر جھاڑ لیکن وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر ہر روز کے معمول کے مطابق میں اپنے کمرہ میں جھاڑو دینے لگی اور دروازے کی دہلیز پر پہنچی تو وہاں پر ایک چوٹی پڑی تھی اور میں وہ لے کر اُسی وقت آپ کے پاس آگئی ہوں کیونکہ یہ میری نہیں یقینا یہ وہی چونی 283