زندہ درخت

by Other Authors

Page 282 of 368

زندہ درخت — Page 282

زنده درخت سب بچیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں دین بھی ہے اور دنیا بھی۔بہت خوش ہوتی ہوں ان کی بچیوں سے مل کر۔ماشاء اللہ وہ بھی اپنی والدہ کی تربیت کے نتیجہ میں اپنے بچوں کی ویسی ہی تعلیم و تربیت کر رہی ہیں اور خود بھی دینی کاموں میں پیش پیش ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کی قیامت تک کی نسلوں کو خادم دین اور سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وابستہ رکھے۔اس مختصر سی تمہید کے بعد میں اصل واقعہ کی طرف آتی ہوں یہ واقعہ میرے بہت ہی بچپن سے تعلق رکھتا ہے میں بہت چھوٹی تھی اور نیا نیا سکول جانا شروع ہوئی تھی۔ایک دن آدھی چھٹی کے وقت ہم سب لڑکیاں باہر کھڑی تھیں وہ بہت ہی سستا زمانہ تھا۔بہت سی بچیوں کے والدین اپنی بچیوں کو ہر روز خرچ کے لئے ایک پیسہ دو پیسے دیتے تھے۔کئی لڑکیاں صبح ناشتہ کے بغیر ہی جلدی میں سکول آجاتیں۔اس طرح ایک لڑکی صبح ناشتہ کے بغیر ہی گھر سے سکول آ گئی اور پیسے لانا بھی شاید بھول گئی اُس کے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی جو ایک پیسے کے چنے خرید کر کھا رہی تھی اُس لڑکی کو ساتھ کی لڑکی نے کہا جو پیسے نہیں لائی تھی کہ تمہارے پاس دو پیسے تھے ایک پیسے کے تم نے چنے لے لئے ایک پیسہ جو تمہارے پاس ہے مجھے دے دو میں پیسے لانا بھول گئی ہوں۔وہ انکار کر رہی تھی کہ میں نہیں دے سکتی وہ لڑکی منت کرنے لگی کہ میں ناشتہ بھی نہیں کر کے آئی مجھے بھوک لگ رہی ہے میں کل تمہیں یہ پیسہ لا کر دے دوں گی جب وہ کسی طرح بھی رضامند نہ ہوئی تو اُس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ سفارش کر دیں مجھے بھوک لگی ہے میں کل لا دوں گی مجھے اُس لڑکی پر ترس آ گیا میں نے کہا دے دو یہ کل لا دے گی۔میرے کہنے پر اُس لڑکی نے اُسے پیسہ دے دیا۔وہ لڑکی ہر روز ہی جب دوسری لڑکی سے اپنا پیسہ مانگتی تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی اس طرح ہفتوں گزر گئے۔وہ لڑکی ہر روز مجھے بھی کہتی کہ آپ نے اس کی سفارش کی تھی۔اُن دنوں ہم بچوں کو اتنی چھوٹی عمر میں ہاتھ میں سوائے عید وغیرہ کے پیسے نہیں ملتے تھے۔جس چیز کی ہم خواہش کرتے وہ منگوا دی جاتی تھی۔آخر ایک دن اُس لڑکی نے مجھے کہا کہ اگر فلاں دن تک پیسہ نہ دیا تو میں حضور کو تمہاری شکایت کر دوں گی۔میں سخت گھبرائی اور بے حد پریشان ہوئی 282