زندہ درخت — Page 268
زنده درخت 36- ایک قیمتی تحفہ تحریر محترم شیخ ناصر احمد خالد آج سے تقریباً 45 سال قبل جب میں قادیان گیا بیت الفکر جانے کے لئے حضرت صاحب کے گھر ” الدار‘ میں داخل ہوا تو محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ آف کراچی کے والد محترم عبدالرحیم دیانت در ویش فرش کی اینٹیں تبدیل کر رہے تھے مجھے کہنے لگے کہ واپسی پر ایک تبرک لیتے جانا انہوں نے مجھے الدار کے فرش کی اینٹ کا آدھا ٹکڑا دیا۔جو ہمارے گھر خالد منزل، ربوہ میں لگا ہوا ہے واپسی پر اٹاری واہگہ بارڈر پر کسٹم انسپکٹر نے میرے بیگ میں کاغذ میں لیٹے ہوئے اس اینٹ کے ٹکڑے کو دیکھا تو طنز یہ کہا۔کیا یہ سونے کی اینٹ ہے؟ میں نے جواب دیا: اس سے بھی قیمتی۔اس پر اس کی حیرانگی اور بھی بڑھ گئی پھر میں نے اس متبرک اینٹ کی اہمیت سے اسے آگاہ کیا تو حضرت بابا گورو نانک کے اس پیروکار کی آنکھوں میں عقیدت کی ایک خاص چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوئی۔268 (الفضل ربوه 2 ستمبر 2004 )