زندہ درخت — Page 269
زنده درخت -37 محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اسط شاہد بدالباسط ہماری والدہ کی ابتدائی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ان کی والدہ بہت کم سنی کے عالم میں وفات پاگئی تھیں۔اس لئے باوجود علم دوست باپ کی بیٹی ہونے کے ظاہری تعلیم سے محروم ہی رہ گئیں۔قادیان کے مقدس ماحول اور علمی ذوق کی برکت سے اماں جی نے کلام اللہ پڑھنا سیکھ لیا۔خطبات، درس، لجنہ کے اجلاسوں میں کمال اہتمام و باقاعدگی سے شمولیت کی وجہ سے علم وسیع ہوتا چلا گیا۔حرف شناسی اور لگن کی وجہ سے درثمین اور الفضل ہمیشہ ہی زیر مطالعہ رہتا۔در ثمین اور کلام محمود کے اشعار کثرت سے زبانی یاد تھے۔ہم بہن بھائیوں نے ہی نہیں محلہ کے متعدد بچوں نے اس ان پڑھ خاتون سے علم کا ذوق حاصل کیا۔اللہ تعالی کے فضل سے خاکسار کو کچھ عرصہ تنزانیہ ( مشرقی افریقہ ) میں خدمت دین کی سعادت حاصل ہوئی۔وہاں ایک پرانی طرز کے معمر ہند و دوست تھے علمی طبیعت رکھنے اور غیر متعصب ہونے کی وجہ سے ہمارے ساتھ ان کے بہت اچھے مراسم تھے ایک دفعہ وہ خاکسار سے پوچھنے لگے کہ آپ کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے دادا جان ایک دکاندار تھے۔آپ کے والد صاحب نے اس کاروبار کو مزید وسعت دی اس صورت میں جبکہ آپ کا خاندان دنیا کمانا جانتا اور دنیاوی کشش سے بخوبی واقف تھا آپ اس طریق کو چھوڑ کر خدمت دین کی طرف کس طرح آگئے ؟ خاکسار نے انہیں اس سعادت کے حصول کو فضل الہی کا نتیجہ بتایا اور یہ بھی بتایا کی ظاہری طور پر تو اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ میرے بچپن کی سب سے پرانی بلکہ پہلی یاد یہ ہے کہ اماں جی مجھے بہلاتے ،کھلاتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ میرا بچہ دین کی خدمت کرے گا۔لوگوں کو راہ حق کی طرف بلائیگا۔اس۔269