زندہ درخت

by Other Authors

Page 142 of 368

زندہ درخت — Page 142

زنده درخت اس کہانی سے یہ سبق دینا مقصود تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود کو ساری دنیا چھوڑ دے مگر جو رب آپ کی پرورش کرتا ہے ساری دنیا کو آپ کے قدموں میں جھکا دے گا اور اپنا قادر ہونا سمجھا دے گا۔جن کا ذکر کر رہا ہوں یہ وہ ہی محترم رفیق ہیں جنہوں نے محمد حسین بٹالوی صاحب کے نیچے سے چادر کھینچ کر کہا تھا اُٹھ پلید گواہی عیسائی کے حق میں مسلمان کے خلاف دینے آیا ہے میری چادر کو پلید نہ کر۔ان کی باتیں تو بہت ہیں مگر میں نے بات شروع کی تھی ان کے چھوٹے بھائی کی یعنی ٹھیکیدار اللہ یار صاحب کی۔وہ ہمارے گھر مدعو تھے اور ہم نے اُن سے کوئی روایت سنانے کی فرمائش کی۔انہوں نے کہا کھانے پر بیٹھے ہیں کھانے کی ہی بات بتا دیتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود کے والد محترم جناب مرز اغلام مرتضی صاحب کے قادیان کے مغربی جانب شہر سے لے کر عید گاہ تک جو تقریباً ایک میل کا فاصلہ ہے ڈھاک کے درخت تھے جن کو کاٹنے کا ٹھیکہ میں نے لیا۔ہم تینوں بھائی اُن دنوں اس کام کو سرانجام دینے کے لئے قادیان میں ہی رہتے تھے۔ایک دن مرزا صاحب نے اپنے دوست کے طفیل ہماری بھی دعوت کی اور فرمایا رات کا کھانا ہمارے ہاں سے آئے گا۔اتفاق کی بات یہ کہ جب خادم کھانا لے کر آیا موصوف محمد بخش صاحب جو اچھے جسم اور بہت طاقتور تھے۔کھانے کو دیکھ کر اپنے انداز میں یوں گویا ہوئے کہ یہ تم تین آدمی کا کھانا لائے ہو۔ایک ٹرے میں کچھ زردہ اور پلاؤ تھا۔خادم نے کہا میں تو خادم ہوں جو آپ نے دیا میں نے لا کر آپ کو دیدیا۔محمد بخش صاحب نے اپنے پنجابی انداز میں محاورہ بولا اس کو کون کھائے گا کون بگن جائے گا۔( یعنی اس قدر کم ہے کہ کوئی کیا کھائے گا اور کیا حاجت میں نکلے گا )۔بہر حال تینوں بھائی کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔اور خوب سیر ہو کر کھایا اگر چہ بھائی نے کہہ دیا تھا کہ کم ہے مگر ہم نے خوب پیٹ بھر کے کھایا کچھ زیادہ ہی کھایا مگر سبحان اللہ کھانے میں ایسی برکت تھی کہ ختم نہ ہوا، آنے والے مسیح موعود کے گھر سے آمدہ کھانا، نہ 142