زندہ درخت — Page 143
زنده درخت معلوم تقدیر نے کب سے اس گھر کو برکتوں سے بھر پور کرنا شروع کر رکھا تھا۔قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ سارے ہی جتن کیے مگر کھانا بیچ رہا۔اس کی لذت اللہ تعالیٰ شاہد ہے اب تک محسوس کرتا ہوں۔اس کی خوشبو سے آج بھی لطف لیتا ہوں۔پھر صبح ہوئی تو ہم بھائیوں نے سیر ہو کر ناشتہ اسی کھانے سے کیا۔فالحمد للہ علی ذالک“ آپ ان واقعات کو بیان کرتے وقت ایک خاص قسم کے جذب و شوق سے بھر پور ہوتے کبھی مسحور بت بنے بیٹھے رہتے ہمارے ان سے ایک طرح گھر یلو تعلقات تھے میرے والد صاحب سے بہت تعلق تھا اسی نسبت سے ہم سے بھی محبت تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مقام خاص عطا فرمائے آمین۔ان کی اہلیہ محترمہ میری والدہ صاحبہ کی ہم نام تھیں یعنی برکت بی بی نام تھا تعلیم یافتہ تھیں۔آخری عمر میں میرے ایک بچے کو ان سے قرآن پاک پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔میں جب قادیان سے ربوہ جا تا خاص شوق اور اصرار سے قادیان کا تبرک لیتیں اور شکر گزار ہوتیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔آمین۔بدرالدین صاحب کی دعوت : رفقاء کو گھر پر بلوا کر روایات سننے کے سلسلے کی ایک اور بات یاد آگئی ایک دفعہ حضرت بدرالدین صاحب مدعو تھے حسب معمول ہم سب ارد گرد جمع تھے ہماری درخواست پر یہ روایت سنائی۔میں ابھی بچہ تھا میرے والد صاحب حضرت اقدس مسیح موعود کے گھر اندرونِ خانہ پانی بھرنے پر مقرر تھے۔ایک روز حضرت اقدس نے فرمایا ” چلو میرے ساتھ ہمیں ساتھ لے کر مہمان خانہ کے راستہ کے سب کوارٹر ، مکان، رہائش گاہوں پر پوچھتے گئے کہ کھانا کس کو کھانا ہے؟ غالباً آپ کو کوئی الہام ہوا تھا سب جگہ پوچھ لیا واپس آ رہے تھے تو ایک شکستہ مکان سے کراہنے کی آواز آئی۔( یہ مکان بھائی بشیر محمد صاحب کی دکان والی جگہ پر تھا) آپ نے اُن صاحب کو فر ما یا دیکھنا یہاں کون ہے؟ دیکھ کر بتایا کہ ایک بیمار شخص 143