زندہ درخت — Page 41
زنده درخت سفر آخرت ابا جان اس لحاظ سے بے حد خوش نصیب تھے کہ اپنی سب اولا د کو خدمت دین میں مصروف دیکھا۔سب نے سعادت مندی سے اپنے عظیم والد کی قدر و منزلت پہچانی اور حسب مقدور خدمت کی۔آخری وقت میرے گھر رہے اور میری بیوی فاطمہ اور بچوں نے خدمت کی سعادت حاصل کی۔فالحمد للہ علی ذالک آخری دنوں میں بھائی عبدالرحیم صاحب درویش قادیان کا بہت ذکر کرتے۔ایک دفعه محترم ملک صلاح الدین صاحب ناظر امور عامه قادیان سے ربوہ آئے تو ان سے ملنے کے لئے آئے۔ابا جی نے اُن سے دو باتیں پوچھیں : قادیاں کا کیا حال ہے؟ میرا بچہ عبدالرحیم وہاں رہتا ہے اُس کا کیا حال ہے؟ آپ نے بتایا اچھا ہے اور قادیان میں خیریت سے رہتا ہے ابا جان نے فرمایا میرے بیٹے کو کہ دینا کہ آکر مل جاوے۔ملک صاحب نے قادیان آ کر بھائی کو بتایا کہ آپ کے ابا جان نے یہ پیغام دیا ہے۔بھائی عبدالرحیم نے بتایا کہ میں تو ایک مہینہ ربوہ رہ کر تیمار داری کر کے دو دن ہوئے آیا ہوں مگر ابا جان کو اولاد سے پیار عشق کی حد تک تھا اور اپنا وقت آخر بھی نظر آ رہا تھا۔اس لئے ملک صاحب کو بیٹے کو بلانے کا پیغام دے دیا۔چنانچہ بھائی عبدالرحیم واپس ربوہ آگئے۔اس دوران ابا جان پر فالج کا حملہ ہو چکا تھا مصافحہ کے لئے ہاتھ نہ اُٹھا سکے دوسرے ہاتھ کی مدد سے ہاتھ اُٹھا کر مصافحہ کیا۔میں ملک میں نہیں تھا اپنے کند اور ٹوٹے پھوٹے اسلحہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین متین کی فوج کے ہمراہ میدان جنگ یعنی غانا میں بطور سپاہی کام کر رہا تھا۔وہ مجھ خاکسار کو بھی بے حد یاد کرتے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اُنہیں احساس رہتا کہ میرا آنا بہت مشکل ہے فرماتے اگر میں اُسے دیکھ لیتا تو اچھا تھا اگر میرے پاس دو چار سو روپیہ ہوتا تو میں دفتر والوں کو دے کر کہتا کہ میرے بچے کو بلا دو تا کہ میں اُسے دیکھ 41